سوشل میڈیا نے ہمارے سماج کے فیبرک کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ سماج کا نیوکلیس بہرحال انسان ہے، اور ہمیشہ سے ہر دور میں کسی نہ کسی حوالے سے کوئی نہ کوئی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ انسان اپنے آپ کو بدل لے۔ لیکن اس کے باوجود عملی طور پر یہ سب کچھ ممکن نہیں ہو سکا۔ یہاں تک کہ شعوری طور پر یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ انسان کیوں بدلے اور جب بدل جائے گا تو وہ کیسا ہوگا۔شاید ہم سب آئیڈیل کی تلاش میں ہیں، اور عمومی طور پر وہی چیز تلاش کی جاتی ہے جو گم ہوگئی ہو۔ اب ہم پر لازم ہے کہ پہلے گم ہونے والے انسان کے خدوخال اپنے اوپر واضح کریں اور پھر تلاش کا سفر شروع کریں، کیونکہ یہ سفر طویل بھی ہے اور تھکا دینے والا بھی۔ بسا اوقات ایسے حالات بھی پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے کہ سفر ادھورا رہ جائے، بات وہیں کی وہیں رہ جائے اور یہ سارا خواب بھی ادھورا رہ جائے، بلکہ خواب، خواب ہی رہ جائے۔خواب کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ خواب، خواب ہی ہوتے ہیں اور خواب کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ تاثر حقیقت بن کر ہمارے دل و دماغ پر سوار ہوجائے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔ ویسے ایسا ممکن نہیں ہے، کیونکہ انسان جونہی بطنِ مادر سے باہر آتا ہے، ہاتھ پائوں مارنا شروع کردیتا ہے، بصورتِ دیگر اس کے متعلقین کو پریشانی لاحق ہوتی ہے۔ ایسا ویسے کم کم ہی ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر انسان اپنی زندگی کی کہانی کا آغاز ہاتھ پائوں مارنے سے ہی کرتا ہے اور پھر تو چل سو چل۔ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، تاہم تربیت کا ایک اہم کردار ہے اور تربیت کرنے والوں کا کانسپٹ درست ہونا شرط ہے، ورنہ انسان اور انسان میں بڑا ہی فرق پڑجاتا ہے۔ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے بھی انسان ہاتھ پائوں مار رہا ہے، جبکہ چند ایسے بھی ہیں جو ایڈہاک ازم کے تسلسل کے لیے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو بغیر سوچے سمجھے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ ان سب میں مشترک چیز صرف ایک ہی ہے، اور وہ یہ کہ سب ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔ ایسے بھی انسان ہیں جن کا خیال ہے کہ اس کام کو احسن طریقے سے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنے آپ کو مارے، تب جاکر وہ اپنے آپ کو بدل سکتا ہے۔ اور جب وہ خود بدل جائے گا تو لوگوں کو بھی بدلا بدلا نظر آئے گا۔ لوگ اسے دیکھ کر خوش بھی ہوں گے اور اس جیسا بننے کی کوشش بھی کریں گے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں کہ اگر کوئی اپنا درد محسوس کرتا ہے تو اسے زندہ تصور کیا جاتا ہے، اور اگر کوئی شخص دوسرے لوگوں کا درد محسوس کرتا ہے تو اسے انسان کہتے ہیں۔ ایسے انسان کو ماڈل کہتے ہیں۔اس طرح ایک ماڈل کا تعین ہوجائے گا، پھر اس ماڈل کی مارکیٹنگ اور ماڈلنگ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ عصرِ حاضر میں مذکورہ بالا کام کرنے کے لیے سوشل میڈیا سے بہتر کوئی پلیٹ فارم نہیں ہوسکتا۔آئیے، سب سے پہلے سوشل میڈیا پر پائی جانے والی موجودہ صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہیں اور ان رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں جو حقیقت کے راستے میں حائل ہیں، اور یہ دیکھتے ہیں کہ ہم سوشل میڈیا کے ذریعے مذکورہ کام کو کیسے کامیابی سے انجام دے سکتے ہیں۔سوشل میڈیا کو جی بھر کر دیکھ رہے ہیں۔ اس میں بھی ورائٹی ہے۔ طرح طرح کے انسان، انسان کے مختلف کردار، ان کرداروں کے کئی کئی رخ اور ہر رخ دوسرے سے مختلف۔ اختلاف کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ جب ساری حدیں عبور ہوجاتی ہیں تو پھر خوف، پریشانی، مایوسی اور غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ ہر ایک کا سامنا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اور پھر چپ ہی بھلی ہوتی ہے۔یہ ساری باتیں بجا، لیکن چپ بیانیے کی حد تک بھلی ہوتی ہے۔ مسلسل چپ رہنا خلافِ عقل ہے، کیونکہ انسانی ڈھانچے میں عقل کا بھی ایک کردار ہے۔ ہر کردار نے اسٹیج پر آکر کچھ نہ کچھ لازمی طور پر کرنا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا ایک زبردست پلیٹ فارم ہے، جہاں آکر فی الحال ہر شخص اپنے اپنے حساب سے کچھ نہ کچھ کررہا ہے۔ کوئی بات کا بتنگڑ بنا کر اپنی بات بنا رہا ہے، کوئی جگتوں کے لبادے میں پھکڑ پن کررہا ہے، کوئی اپنی تصویریں وائرل کروا کر اپنا نام بنانے کی پوری کوشش کررہا ہے۔ سیاست، ثقافت، معاشرت، مفاہمت، معرفت اور عزت کے نام پر بھی خوب ڈرامے ہورہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں۔ نہیں، نہیں، تصویر کے دو سے بھی زیادہ رخ ہوتے ہیں۔ بس دیکھنے کی ضرورت ہے، غور کرنے اور سوچنے کی بھی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا نے سوچ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے۔ سارے اوہلے لاہ دیے ہیں۔ کائنات کو جامِ جم کی مثل سب کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔اب علم کے حصول کے لیے یونان، یورپ، چین یا کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ عرش اور فرش کے درمیان موجود وجود کو سب پر آشکار کردیا گیا ہے۔ نیکی اور بدی کی پوری کہانی ہم سب طالبانِ علم پر کھل چکی ہے۔ الہامی کتب کا مقصود کیا ہے، اس سلسلے میں بھی ہم سب پر معاملہ روشن ہوچکا ہے۔ اخلاقیات، محبت، اخلاص، سچائی اور اصلیت وغیرہ کو جاننے میں سوشل میڈیا نے ہماری کتنی مدد کی ہے، یہ تو اپنے آپ سے ہی پوچھا جاسکتا ہے۔ اور پوچھ کر زندگی کا اگلا لائحہ عمل مرتب کیا جاسکتا ہے۔مذکورہ بالا تفصیلی جائزہ خیر اور شر کی اصل کہانی ہم سب پر واضح کرتا ہے، اور یہی سوشل میڈیا کا اعجاز ہے۔ سب چیزیں ہمارے سامنے ہیں، اور اب فیصلہ میرا ہوگا کہ میں کس قسم کا انسان بننا چاہتا ہوں۔اس سارے کام کے لیے شعور کی ضرورت ہے، اور شعور کی پختگی کے لیے خیر اور شر کے بارے میں جاننا اشد ضروری ہے، تاکہ شعور نام کی چیز بھی کارآمد ثابت ہوسکے۔ یہی وہ سائنس ہے جو انسان کو دوسروں کا درد محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ سب سے پہلے وہ اپنا درد محسوس کرکے اپنے آپ کو زندہ ثابت کرے، کیونکہ زندہ ہی زندوں کا درد محسوس کرتا ہے، اور بقولِ شاعر:دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کوورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں قارئین کرام! سوشل میڈیا آج کے دور کا سب سے موثر اور بڑا پلیٹ فارم ہے اور ہر شخص کو میسر بھی ہے۔ اس کے استعمال کے ذریعے ہم جہانِ رنگ و بو میں بہت بڑی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ اس کے لیے ہمارے رویے بہت ہی مثبت ہونے چاہئیں۔ منفی سوچ کی بدولت ہم اسی سوشل میڈیا کی مدد سے اس خوبصورت دنیا کو جہنم بنا سکتے ہیں۔اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔ سوچ بچار کرنے والے ہم سے پہلے بھی گزرے ہیں۔ ان سب لوگوں نے ہمیں اثبات کا درس دیا ہے، اور اثبات کی بدولت ہی خیر کو پوری دنیا میں عام کیا جاسکتا ہے۔خیر اگر ہے تو انسان محفوظ ہاتھوں میں ہے، اور وہ اس دنیا کی کہانی میں اپنے کردار کو انتہائی احسن طریقے سے نبھا سکتا ہے۔ اور اپنی بات کو نبھانے والے ہی امر ہوتے ہیں۔




