شعبہ وکالت کیساتھ دیگر کام کرنیوالے جعلی وکلاء ہیں،PBC

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پنجاب بار کونسل نے شعبہ وکالت کیساتھ ساتھ کسی بھی دوسرے شعبہ یا کسی قسم کے کاروبار سے منسلک وکلاء کو جعلی وکلاء قرار دیتے ہوئے 15مئی 2026ء تک پنجاب بار کونسل کوآگاہ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ صرف پریکٹس کرنیوالے ہی وکلاء ہیں۔ پنجاب بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو فخر حیات اعوان’ وائس چیئرمین خواجہ قیصر بٹ کی جانب سے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ایسے وکلاء جو پنجاب بار کونسل کے لائسنس ہولڈر ہیں اور وہ کسی سرکاری’ نیم سرکاری’ بیوروکریسی یا پرائیویٹ ادارے میں ملازمت کرتے ہیں۔ نجی سکول کے مالک ہیں’ کسی بھی انڈسٹری کے ڈائریکٹر ہیں’ بنک میں کام کرتے ہیں، کسی سٹور یا دکان کے مالک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتی اہلکاروں ریڈر یا کسی محکمہ کے اہلکار ہیں۔ ویزہ جات کا کام کرتے ہیں ایجنٹ ہیں’ ڈاکٹر’ انجینئر یا ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہیں۔ پراپرٹی ڈیلر’ گاڑیوں کی خرید وفروخت کرتے ہیں’ ہوٹل یا ریسٹورنٹ چلاتے ہیں۔ موبائل انڈسٹری یا شوبز سے منسلک ہیں۔الغرض وکالت کے علاوہ کوئی نجی ذریعہ آمدن ہیں اور وکالت کے علاوہ دیگر کسی بھی ذرائع سروسز دیکر آمدن حاصل ہوتی ہے۔ وہ مذکورہ قانون کے مطابق غلط ہے اور آپ جعلی وکلاء کی تعریف میں آتے ہیں، آپکا شناختی کارڈ نمبر آپکی اصلیت چھپا نہیں سکے گا۔ تمام پنجاب بار کونسل کے جاری کردہ لائسنس رکھنے والے وکلاء قانون کو پڑھ لیں اور جو بھی اس زمرے میں آتا ہے وہ 15مئی 2026ء تک پنجاب بار کونسل کو آگاہ کرے ورنہ اس کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں