صحافی عوام کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں

تاندلیانوالہ (نامہ نگار) پریس کلب رجسٹرڈ تاندلیانوالہ کا ایک اہم اجلاس چیئرمین طارق زمان خان کے دفتر لڈو چوک میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول پیش کی گئی۔ فضا میں عقید ت اور محبت کے جذبات نمایاں رہے، جبکہ پریس کلب کے دوئم نائب صدر محمد جمیل بٹ مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی اور خصوصی اجتماعی دعا کی گئی۔اجلاس میں صدر پریس کلب میاں شاہد محمود، سینئر نائب صدر کفیل اکبر گجر، سرپرستِ اعلی طارق شکور کمبوہ، چیئرمین طارق زمان خان، ڈپٹی چیئرمین حافظ نواز خان، نائب صدر اول رانا محمد اسلم، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری زاہد الحسن رضوی، چیف کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد اسلم طاہر، فنانس سیکرٹری زاہد اقبال، سیکرٹری نشر و اشاعت ذیشان عقیل، رانا عبدالرزاق اور حافظ عماد خان سمیت دیگر عہدیداران و ممبران نے شرکت کی۔اس موقع پر محمد جمیل بٹ مرحوم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے کہا کہ ایک ساتھی کا بچھڑ جانا پوری صحافتی برادری کے لیے ایک تکلیف دہ لمحہ ہے۔ محمد جمیل بٹ مرحوم صرف پریس کلب کے عہدیدار ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کے لیے محبت، خلوص اور بھائی چارے کے جذبے سے وابستہ ایک عزیز ساتھی تھے۔ ان کی خوش اخلاقی، ملنساری اور ساتھیوں کے ساتھ محبت کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔شرکا نے کہا کہ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کی اچھی یادیں، محبتیں اور خلوص ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ محمد جمیل بٹ مرحوم کی صحافتی وابستگی اور ساتھیوں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی انکی خوبصورت یادوں کا حصہ رہے گا۔صدر پریس کلب میاں شاہد محمود نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت محض خبر لکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بڑی سماجی ذمہ داری ہے۔ صحافی معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنے، عوام کی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے اور حقائق کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافتی برادری محبت، احترام، اتحاد اور باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے تو نہ صرف صحافیوں کے مسائل بہتر انداز میں اجاگر کیے جا سکتے ہیں بلکہ علاقے کے عوام کی بھی موثر خدمت کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں صحافت پہلے سے زیادہ ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔ کسی بھی خبر کو نشر یا شائع کرنے سے قبل اس کی مکمل تصدیق، تحقیق اور حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ ذاتی اختلافات اور مفادات سے بالاتر ہو کر حق، سچ اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں اور اپنی قلم کی حرمت کو ہمیشہ برقرار رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں