عظیم سپہ سالار بھارتی اعصاب پر سوار

اسلام آباد (بیوروچیف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، بھارت میں سراسیمگی، میڈیا کے تبصروں میں پریشانی، کیا وہ اب بھارت کے حوالے سے زیادہ سخت رویہ اختیار کریں گے؟فیلڈ مارشل بننے کے بعد بھی وہ بری افواج کی قیادت جاری رکھیں گے،ایوب خان فیلڈ مارشل بننے سے پہلے ہی جنرل موسی خان کو کمانڈر انچیف بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا معاملہ یکسر مختلف ہے،اقتدار کے بعد جنرل ضیا کو فوج کے روزمرہ امور کی انجام دہی کے لئے وائس چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کرنا پڑا تھا ،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تقرری سے چیف آف آرمی اسٹاف کے منصب کی توقیر میں اضافہ ہوا ہے،جنرل سید عاصم منیر جو کسی منتخب عوامی حکومت کی طرف سے مقرر ہوئے ملک کے پہلے فیلڈ مارشل ہیں اپنی تقرری کے دن سے ہی پاکستان کے دشمنوں کیلئے باعث آزار تھے اب جبکہ انہوں نے حکومت کی جانب سے تفویض کردہ اس اعزاز کو قبول کرلیا ہے۔دریں ثناء ۔اسلام آباد (بیوروچیف) جنرل سید عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی ایک فوجی اعزاز سے بڑھ کر ہے۔ یہ ایک ایسے رہنما کیلئے قوم کی جانب سے خراج تحسین ہے جو اس وقت ثابت قدم رہے اور شاندار کارکردگی دکھائی جب پاکستان کو اپنی تاریخ کے ایک انتہائی نازک چیلنج کا سامنا تھا۔ بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران جنرل عاصم منیر کی فیصلہ کن قیادت نے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بے مثال وقار اور عزت و احترام ملا۔ کابینہ کے ذرائع کے مطابق، گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عاصم منیر کی ترقی کی باضابطہ سفارش کی۔ اس تجویز کی بنیاد ان کی غیر معمولی قیادت، اسٹریٹجک قابلیت، اور قوم کے دفاع کیلئے غیر متزلزل وابستگی تھی جس کے اعتراف میں کابینہ نے متفقہ طور پر وزیراعظم کی سفارش کی تائید کی۔ 7 مئی 2025 کی رات بھارت نے پاکستان کی خودمختاری کو پامال کرنے کیلئے بلا اشتعال اور بلا جواز فوجی حملہ کیا۔ اس تاریک گھڑی میں جنرل عاصم منیر نے بے مثال شجاعت، بہادری، واضح سوچ اور عزم کے ساتھ ملک کے دفاع کی قیادت کی۔ ان کی کمان میں مسلح افواج نے تیز، مربوط اور مستعدی سے جواب دیا، دشمن کے مقاصد کو موثر انداز سے ناکام بنایا اور پاکستان کی علاقائی سالمیت کے دفاع کو یقینی بنایا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ قوم ایک غیر معمولی چیلنجنگ مرحلے سے گزر چکی ہے لیکن جنرل عاصم منیر کی قیادت طاقت اور اتحاد کے ستون کے طور پر کھڑی ہے۔ کابینہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جنرل سید عاصم منیر نے مثالی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے تینوں افواج کو ایک مربوط جنگی حکمت عملی کے تحت متحد رکھا جو ایک تاریخی اور باوقار کامیابی کا باعث بنی۔ بھارت کے ساتھ اس تنازع کے دوران، جنرل عاصم منیر کی کمان نظم و ضبط، ہم آہنگی اور درستگی کی مثال تھی، جس کی وجہ سے ایک ایسی فتح نصیب ہوئی جس نے نہ صرف اس پاک سر زمین کو محفوظ رکھا بلکہ قوم کے حوصلے بھی بلند کیے۔ کابینہ کے ایک ذریعے کے مطابق، یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک نادر لمحہ تھا جو اس بات کا متقاضی تھا کہ مسلح افواج کی رہنمائی کرنے والی شخصیت کو ان کی غیر معمولی کارکردگی کیلئے غیر معمولی اعزاز سے نوازا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ فوج کے قوانین فور اسٹار جرنیل کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کی اجازت دیتے ہیں اور فیلڈ مارشل فوج میں اعلی ترین عہدہ بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں