صورتحال ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی ہے۔ ویسے بھی فطرت کا قانون۔ تغیرات زمانہ اور اچانک ایسے موڑ بھی راستے میں آنے کا امکان ہوتا ہے جہاں کانوں میں کوئی کہنے والا کہہ جاتا ہے ہم کو نہ آزمانا۔ ہم سے ہے زمانہ۔ ہم جب چاہیں حالات کا رخ موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ بہرہ تو پھر بہرہ ہوتا ہے اور اگر اندھا بھی ہو تو وہ 6-7مئی 2025کی شب بھاگ دوڑ کرتا نظر آتا ہے۔ انڈیا کی یلغار اور واقعتا اس کا شتر بے مہار ہونا۔ نریندر مودی کا ابا تبا بولنا اور سوچ میں رعونت کا تعفن اور بدبو۔ بدمست اور خونخوار رویہ اور میں ناں مانوں۔ کسی کا بھی جب برا وقت آتا ہے تو دراصل منہ سے ایسی ہی بک بک۔ پاکستان کے نہتے معصوم لوگوں پر بمباری اور بچوں عورتوں اور جوانوں کا بے دریغ قتل۔ پھر 10مئی 2025کو پاک فضائیہ کا ردعمل۔ آپریشن بیان المرصوص۔ اس کو کہتے ہیں دانت کھٹے کردینا، اس کو کہتے ہیں آنکھیں نکال باہر رکھنا، اس کو کہتے ہیں اینٹ کا جواب پتھر اور اس کو کہتے ہیں اپنے دشمن کو سبق سکھانا۔ ویر نبھانے کے لئے بڑے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے اور جوش اور جذبے سے ردعمل دینے والے دنیا والوں کو حیران تو کرتے ہی ہیں ششدر بھی کردیتے ہیں اور جہان رنگ وبو اور چشم فلک۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ مودی سرکار ٹھس۔ چیں بجبیں اور مکمل طور پر بے بسی کی علامت۔ کریں تو کیا کریں۔ پاک فضائیہ کے طیارے اڑتے ہیں اور ہندوستان کا بے تحاشہ نقصان اور ہندوستان کے طیارے اڑنے سے پہلے فریز۔ یہ کیا ہے اس کو کہتے ہیں معجزہ۔ پاکستانی قوم اس نبی آخرالزمان کے ماننے والی ہے جس نے بہت پہلے فرما دیا تھا علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔ علم انسان کو ممتاز کرتا ہے اور پیشہ ورانہ لحاظ سے منفرد اور یکتا۔ ٹیکنالوجی آج کے دور میں ہی نہیں ہمیشہ سے ہی صلاحیت کی دلیل۔ کچھ دیر ہم سست کیا ہوئے کہ ہندو ذہنیت اپنے آپ کو کیا کچھ سمجھ بیٹھی۔ اب بات سمجھ لگی ہے کہ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو جنگ کے لئے تیار رہیں پاکستان کی سیاسی قیادت کی کمال بصیرت۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سابق وزیراعظم پاکستان نے 1974 میں بین الاقوامی دبائو کو پس پشت ڈال کر ایٹم بم کی بنیاد رکھ دی تھی اور اس تسلسل کو ان کے پیش رووں نے آگے بڑھایا اور پھر مئی 1998میں چاغی کے دامن میں میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان کے دور میں ٹھاہ ٹھاہ ہوئی، دھماکوں کی آواز۔ پاکستان نے تو پوری دنیا میں واقعی دھماکہ کردیا سب آنکھیں کھل گئیں اور زبردست پیغام گیا کہ پاکستان سویا نہیں اور اس نے مسلسل جاگ کر ایٹمی صلاحیت حاصل کرکے امت مسلمہ میں یکتائی کا اعلان کردیا ہے اب پاکستان کی طرف کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا دیکھی تو وہ آنکھ نکال دی جائے گی اور اگر کسی نے اس ملک کے خلاف کوئی قدم اٹھایا تو اس کی ٹانگ توڑ دی جائیگی۔ عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر۔ “مزے تے ماہیا ہون آن گے”۔ایسے تھوڑا ڈونلد ٹرمپ انڈیا پاکستان جنگ کا بار بار حوالہ دیتا ہے اور ہر بار ہندوستان کے گرائے گئے طیاروں کی تعداد بھول جاتا ہے۔ ہندوستان تو کیا پاکستان نے تو واحد سپر پاور کو بھی سوچنے پر مجبور کردیا ہے اور پاک سر زمین زندہ باد کے نعرے فضائوں میں گونج رہے ہیں۔ مسلمان ممالک تو سارے اور اس کے علاوہ دنیا ساری کے رہنما ممالک بھی پاکستان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ معاہدوں کا ایک نیا دور، مذاکرات کا ایک نیا انداز، مصالحت اور ثالثی کا ایک نیا طریقہ۔ قوموں کی زندگیوں میں بعض واقعات بڑے ہی اہم ثابت ہوتے ہیں اور ایسے حالات قوموں کی تقدیر کارخ موڑ کے رکھ دیتے ہیں۔ مئی 2025 ٹرننگ پوائنٹ۔ ایک نئے دور کا آغاز۔ آنکھیں کھل گئیں، سوچ کے دھارے بدل گئے۔ حالات نے مکمل طور پر پلٹا کھایا اور دنیا کسی اور انداز سے سوچنے پر مجبور ہوگئی۔ مجبور تو خیر مجبور ہوتا ہے اور ہم ہیں پاکستان اور ہم نے مجبوریوں کے سارے شکنجے ایک دفعہ تروڑ مروڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ہندوستان کا پروپیگنڈہ اور کچھ ہمارے اپنے نابکار لوگ۔ ہندوستان اور پاکستان کا کیا مقابلہ ہے۔ پاکستان کا تو برا حال ہے ہندوستان بہت ہی زیادہ ترقی کرگیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان سب کے منہ میں خاک۔ معرکہ حق۔ یہ معرکہ آرائی کوئی نئی نہیں ہے اللہ کے ماننے والے اور اللہ کا انکار کرنے والے ہمیشہ آمنے سامنے اور موخرالذکر نے ہمیشہ منہ کی کھائی اور پھر یہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہا ہے۔ پاکستان کے عوام کے ہاں جذبہ ایمانی اور افواج پاکستان کی قابل رشک خود اعتمادی اور ناقابل بیان جوش و جوانمردی ۔آپریشن بنیان الرصوص۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ (باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم۔۔ سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا) ہر کے بار سرخرو ہوئے اور بھارت اٹوٹ انگ کی بات کرنے والے مایوس۔ نامراد اور ناکام ہوئے۔ کہتے ہیں اپنے پاوں پر کھڑا ہونا چاہیئے۔ ہم نے جب بھی ادھر ادھر دیکھا ہمیں مایوسی ہوئی یہاں تک کہ اقوام متحدہ امن قائم کرنے کا علمبردار کشمیر کے لوگوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے میں مکمل طور پر بری طرح ناکام ہوا ہے بس طفل تسلی۔ نشستند اور برخاستند۔ ماضی کی اس ساری کہانی کا لب لباب یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم متحد ہونا ہے اور اپنی افواج پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ہے تاکہ ہمارا دشمن جو کہ اس وقت سکتے کی حالت میں ہے اس حالت سے نکلنے ہی نہ پائے اور دنیا والوں کو ہم نے پیغام دینا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں اور پائندہ قوم ہیں۔ آخرکار قوموں کی عظمت حوصلے، اتحاد، بصیرت اور مسلسل جدوجہد سے پہچانی جاتی ہے ۔ مئی 2025نے یہ ثابت کردیا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جس کے دفاع کے لئے پوری قوم ایک جسم کی مانند کھڑی ہے۔ یہ وقت مزید شعور، استحکام اور ترقی کی طرف بڑھنے کا ہے تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، باوقار اور خودمختار پاکستان کی وارث بن سکیں۔ حالات نے دنیا کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا ہے اور پاکستان نے بھی اپنے عمل سے یہ پیغام دے دیا ہے کہ امن ہماری خواہش ضرور ہے مگر قومی وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ اور پاک سر زمین کیلئے ہم ہر قربانی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ آخر پر پوری پاکستانی قوم کو معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر مبارک باد۔




