جڑانوالہ(نامہ نگار) 2مختلف واقعات میں دن دیہاڑے مخالفین نے فائرنگ کرکے مقدمہ کے گواہ اور مخبری کرنے پر 3افراد کو قتل کر دیا،تینوں افراد کو چک نمبر 37گ ب میں قتل کیا گیا گائوں میں خوف کی فضا برقرار، آر پی او فیصل آباد نے رپورٹ طلب کر لی ہے،تفصیلات کے مطابق تھانہ ستیانہ کے نواحی گائوں چک نمبر 37گ ب میں مخبری کرنے کے شبہ پر مخالفین رمضان عرف جانی، عتیق الرحمن وغیرہ نے فائرنگ کرکے رفیق ولد واہگہ ساکن 31گ ب کو قتل کر دیا اور فرار ہو گئے ایک اور واقعہ میں دیرینہ دشمنی پر موٹر سائیکلوں پر سوار مخالفین رضوان عرف جانی ساکن 62 ج۔-ب،عمران عبد الحمید ساکن 37گ ب نے فرقان،عثمان اور عدنان پسران عبدالحمید کے ایما پر ہمراہ 4کس نامعلوم افراد اندھا دھند فائرنگ کرکے ستیانہ سے واپس گھر جانیوالے 2افراد شبیر ولد بشیر ساکن 165گ ب سمندری اور عمران عرف ارشد ساکن 37گ ب کو ستیانہ جھامرہ روڈ پر قتل کر دیا اور فرار ہو گئے مقتول عمران مقدمہ نمبر 268/25کا گواہ تھا دونوں مقتولین اپنے عزیز قمر ولد امتیاز ساکن 37گ ب کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر جا رہے تھے اطلاع پر ایس ایس پی انویسٹیگیشن فیصل آباد،ایس پی ٹائون جڑانوالہ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او تھانہ ستیانہ پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور لاشوں کو تحویل میں لیکر پوسٹمارٹم کیلئے آر ایچ سی ستیانہ منتقل کیا پولیس نے پوسٹمارٹم کے بعد لاشوں کو ورثا کے حوالہ کر دیا ہے چک نمبر 37گ ب میں 3افراد قتل ہونے پر گائوں میں خوف کی فضا برقرار ہے اور عوام خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈویژن جڑانوالہ میں قتلوں کے واقعات میں اضافہ نے شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے تھانہ ستیانہ کی حدود میں دن دیہاڑے 3افراد کے قتلوں کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او فیصل آباد نے سی پی او سے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ سی پی او فیصل آباد کی ہدایت پر ایس پی ٹائون کی سربراہی میں قاتلوں کی گرفتاری کیلئے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہے پولیس تھانہ ستیانہ نے مقتول بشیر کے بیٹے بلال کی مدعیت میں دوہرے قتل کا 4بھائیوں سمیت 5نامزد اور 4کس نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتلوں میں ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔دریں ثناء ۔فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان کے دوسرے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد میں بھتہ خوری’ اغواء برائے تاوان’ قتل وغارت گری اور سرعام لوٹ مار کی وارداتیں عروج پر پہنچ گئی’ سی پی او صاحبزادہ بلال عمر اور ان کی ٹیم جرائم پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی’ بڑھتی ہوئی وارداتوں پر ارکان اسمبلی اور شہری عدم تحفظ کا شکار ہو گئے۔ تفصیل کے مطابق فیصل آباد آج کل ڈاکوئوں اور چوروں کے نرغے میں آ چکا ہے۔ ڈاکوئوں اور چوروں کے گروہ سرعام شاہراہوں پر دندناتے پھرتے وارداتیں کرتے نظر آتے ہیں اور روزانہ ایک سو کے لگ بھگ وارداتیں معمول بن چکی ہیں جبکہ قتل وغارت گری کے ساتھ ساتھ اغواء برائے تاوان’ بھتہ خوری کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آئے روز تاجروں اور شہریوںکو اغواء کرکے تاوان اور بھتہ مانگا جا رہا ہے’ پولیس حکام بے بس نظر آتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی’ ٹکٹ ہولڈرز نے بھی ایک اہم اجلاس کے دوران آر پی او ذیشان اصغر’ سی پی او صاحبزادہ بلال عمر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیئے’ لوٹ مار کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر پولیس کے اعلیٰ حکام جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کی بجائے ان کا فون سننا تک گوارا نہیں کرتے اور صرف سوشل میڈیا پر کاغذی کارروائی دکھاتے ہوئے اعلیٰ حکام کو سب اچھا کی رپورٹ بھجوا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس کے اعلیٰ افسران ان کا فون سننا گوارا نہیں کرتے تو عام آدمی کا کیا حال ہو گا۔ آئے روز قتل وغارت گری’ ڈکیتی’ راہزنی اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شہری عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں اور ان کا گھروں سے نکلنا دوبھر ہو چکا ہے۔ جبکہ پولیس کا گشت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری طرف پولیس جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کی بجائے شاہراہوں میں ناکہ لگا کر شریف شہریوں کو تنگ کرنے میں مصروف نظر آتی ہے۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے پولیس کلچر میں تبدیلی نہ ہو سکی۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف’ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس افسران ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کی بجائے شہریوں کو تحفظ اور ان کے جان ومال کی حفاظت کیلئے موثر اقدامات اور لوٹ مار کرنے والے جرائم پیشہ افراد کو نکیل ڈالنے کیلئے یقینی اقدامات کرے۔




