قائمہ کمیٹی سے بلدیاتی بل کی منظوری کے بعد سیاسی ڈیرے آباد

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پنجاب میں لوکل گورنمنٹ بلدیاتی بل 2025ء قائمہ کمیٹی سے منظور ہونے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ’ سیاسی ڈیرے آباد ہونے لگے۔ امیدواروں نے میدان میں اترنے کیلئے تیاریاں شروع کر دیں، ڈیروں پر گہما گہمی شروع ہو گئی۔ حکومت پنجاب قبل ازیں بھی جلد بلدیاتی انتخابات کروانے کی خواہاں ہے۔ گلی’ محلوں میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں نے علاقہ مکینوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اب بل اسمبلی سے منظور ہو گا، حکومت پنجاب اس سال دسمبر میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی خواہاں ہے۔ بل کے تحت پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام متعارف کروایا جائے گا، نئی حلقہ بندیاں ہوں گی، حلقہ بندیوں میں ڈسٹرکٹ انتظامیہ الیکشن کمیشن کو مدد فراہم کرے گی۔ یونین کونسل میں سے وارڈ سسٹم ختم ہو جائے گا، ایک یونین کونسل سے 9 ممبر منتخب ہوں گے، منتخب ہونے والے ممبرز کو ایک ماہ میں سیاسی جماعت میں شامل ہونا ہو گا، 9 منتخب ممبرز اپنا چیئرمین اور وائس چیئرمین خود چنیں گے، 9 منتخب ممبرز ریزرو سیٹوں کے ممبرز کا بھی انتخاب کریں گے۔پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ کی تجویز پر ڈی سی کو ضلعی کمیٹیوں کا چیئرمین بنانے کی متنازع شق میں تبدیلی کر دی گئی ہے، اب ضلعی کمیٹیوں کے چیئرمین عوامی نمائندے ہوں گے، ڈی سی شریک چیئرمین ہوں گے۔ ترمیم پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ کی متفقہ تجویز پر کی گئی۔بل کے مطابق آبادی کے حساب سے سب سے بڑی مقامی حکومت کا ہیڈ 6 ماہ کے لئے ضلعی کمیٹیوں کا چیئرمین ہو گا، 6 ماہ بعد آبادی کے حساب سے دوسری بڑی مقامی حکومت کا ہیڈ ضلعی کمیٹیوں کا چیئرمین ہو گا، مرحلہ وار 6 ماہ کے لئے ہر مقامی حکومت کا ہیڈ ضلعی کمیٹیوں کا چیئرمین ہو گا، کسی مقامی حکومت کا ہیڈ نہ ہونے کی صورت میں اگلے ضلع کو مدنظر رکھا جائے گا۔پنجاب اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ میں مجوزہ بل پر ہر ہفتے شق وار بریفنگ جاری ہے، بل منظوری کے لئے اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جائے گا، بل کی حتمی منظوری گورنر پنجاب دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں