امریکہ ایران کشیدگی میں پھر اضافہ ہوگیا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ایران کے بارے میں فیصلہ کرنیوالے ہیں،مسئلے کو آسان یا مشکل، کسی نہ کسی طریقے سے حل کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے منصوبے سے تقریبا ًدستبردار ہوچکا، ہم تیل کی قیمتیں کم کرنے میں کامیاب ہوگئے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے دوسری جانب رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے دوبارہ شروع ہوئے تو ایران زیادہ سخت جوابی کارروائی کی تیاری کررہا ہے، جس پر ایرانی حکام نے ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ امریکہ نے بڑے پیمانے پر حملے کیے تو جواب پہلے سے زیادہ شدید ہوگا، امریکی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرنے والے ممالک کو ممکنہ ہدف بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ایران کے پاس جوہری پروگرام رضاکارانہ ترک کرنیکا موقع ہے،جوہری پروگرام ترک نہ کیا تو اسے مجبورکرنا پڑسکتا ہے،ایران کومذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے تمام مواقع دیئے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا یو ٹرن لے لیا ہے، طویل عرصے سے جاری شدید مخالفت کے بعد انھوں نے اچانک ڈاک کے ذریعے اور قبل از وقت ووٹنگ کی حمایت شروع کر دی ہے، اور جیت کے لیے سر توڑ کوششوں میں ریپبلکن ووٹرز کو ارلی ووٹنگ اور ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔صدر ٹرمپ نے امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے ہر مناسب طریقہ استعمال کریں۔ ریپبلکنز کو وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینے کے لیے پہلے سے ریکارڈ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں ٹرمپ نے ایسے طریقوں سے بھی ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے جن کی وہ ماضی میں مخالفت کرتے رہے ہیں، جن میں قبل از وقت اور بذریعہ ڈاک ووٹنگ شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں