لیگل ایڈ سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ

لاہور (بیوروچیف) حکومت پنجاب نے پنجاب لیگل ایڈ ایکٹ 2018میں اہم ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد مستحق شہریوں کو مفت قانونی معاونت کے نظام کو مزید موثر اور وسیع بنانا ہے۔مجوزہ ترامیم کے تحت خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کو قانونی امداد کے دائرہ کار میں باقاعدہ شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ سیکرٹری پراسیکیوشن کی جانب سے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد تجاویز بھی ارسال کی گئی ہیں۔ترامیم میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کا کردار مزید مضبوط بنایا جائے اور ضلعی لیگل ایڈ کمیٹیوں کی کارکردگی کو بہتر کیا جائے۔حکومتی پلان کے مطابق لیگل ایڈ سسٹم کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے گا، جس کے تحت شہری آن لائن درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔ نئے نظام میں کیس ٹریکنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ مقدمات کی نگرانی آسان ہو سکے۔مزید یہ کہ وکلا کی تقرری اور فیس کے نظام میں شفافیت کے لیے نئے قواعد مرتب کیے جائیں گے، جبکہ زیر التوا مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک قانونی معاونت کا پلان بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں