محفوظ سفر کیلئے موٹر وے پولیس کا بڑا اقدام

اسلام آباد (بیوروچیف) نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر سفر کو مزید محفوظ بنانے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری کے لیے شہریوں کو بھی نگرانی کے عمل کا حصہ بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس سلسلے میں موٹروے پولیس نے بی آور آئیزکے نام سے خصوصی عوامی آگاہی اور رپورٹنگ مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق اس مہم کا بنیادی مقصد شہریوں کو صرف مسافر کے طور پر نہیں بلکہ ذمہ دار اور باخبر ناظر کے طور پر موٹروے پولیس کے ساتھ منسلک کرنا ہے، تاکہ شاہراہوں پر ہونے والی خطرناک ڈرائیونگ، اوور لوڈنگ، زائد کرایہ وصولی اور گاڑیوں کی تکنیکی خرابیوں سمیت دیگر خلاف ورزیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر سفر کرنے والے شہری بعض اوقات ایسی خلاف ورزیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں جو بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہیں، لیکن یہی لاپرواہی کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ بی آورآئیز مہم کے ذریعے عوام کو موقع فراہم کیا جارہا ہے کہ وہ ایسی صورتحال کی فوری اطلاع دے کر حادثات کی روک تھام اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔موٹروے پولیس کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 کے دوران موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر مجموعی طور پر 490 حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 466 افراد جاں بحق جبکہ 764 افراد زخمی ہوئے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان حادثات میں 289 جان لیوا جبکہ 201 غیر جان لیوا حادثات شامل تھے۔واضح رہے کہ کیو آر مہم کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں، بسوں اور بس ٹرمینلز پر مخصوص کیو آر کوڈز نصب کیے جا رہے ہیں۔ مسافر اپنے اسمارٹ فون کے ذریعے ان کوڈز کو اسکین کرکے موٹروے پولیس کے متعلقہ شکایت پورٹل تک براہِ راست رسائی حاصل کرسکیں گے۔اس طریقہ کار کے ذریعے مسافروں کو شکایت درج کرانے کے لیے کسی دفتر جانے، طویل کاغذی کارروائی کرنے یا پیچیدہ مراحل سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ شہری چند لمحوں میں اپنی شکایت یا اطلاع متعلقہ حکام تک پہنچا سکیں گے۔موٹروے پولیس کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مقصد شکایات کے اندراج کے عمل کو آسان، تیز اور موثر بنانا ہے، تاکہ اطلاع موصول ہونے کے بعد متعلقہ اہلکار بروقت کارروائی کرسکیں۔بی آور آئیز مہم کے تحت شہری مختلف نوعیت کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرسکیں گے۔ ان میں بالخصوص درج ذیل مسائل شامل ہیں۔ ڈرائیور کی جانب سے انتہائی لاپرواہی، خطرناک انداز میں اوور ٹیکنگ یا دیگر گاڑیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والی ڈرائیونگ۔ مقررہ رفتار کی خلاف ورزی، غیر ضروری تیز رفتاری یا شاہراہ پر ریسنگ کی صورت میں اطلاع دی جاسکے گی۔ پبلک ٹرانسپورٹ گاڑی میں مقررہ گنجائش سے زیادہ مسافروں یا سامان کی موجودگی کی شکایت کی جا سکے گی۔ مسافروں سے مقررہ سرکاری کرایے سے زیادہ رقم وصول کرنے کی صورت میں بھی شکایت درج کرائی جا سکے گی۔ گاڑی کے بریکس، لائٹس یا دیگر اہم حفاظتی آلات میں خرابی کی نشاندہی کی جاسکے گی۔ شہری ایسی دیگر صورتِ حال سے بھی موٹروے پولیس کو آگاہ کر سکیں گے جو مسافروں یا سڑک پر موجود دیگر افراد کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہو۔موٹروے پولیس کے مطابق بی آور آئیز مہم کا مقصد صرف شکایات جمع کرنا نہیں بلکہ اطلاع پر فوری ردعمل کو یقینی بنانا بھی ہے۔شکایت یا اطلاع موصول ہونے کے بعد موٹروے پولیس کا کنٹرول روم متعلقہ معلومات کا جائزہ لے کر قریبی پیٹرولنگ موبائل کو الرٹ کرے گا۔ پیٹرولنگ افسران اطلاع میں دی گئی تفصیلات کی بنیاد پر متعلقہ گاڑی کی نشاندہی کرنے کی کوشش کریں گے۔اگر خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو گاڑی کو ممکنہ طور پر اگلے ٹول پلازہ، چیک پوائنٹ یا مناسب مقام پر روک کر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق متعلقہ ڈرائیور یا ٹرانسپورٹر کے خلاف جرمانہ یا دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے گی۔اس نظام کا مقصد یہ ہے کہ خطرناک انداز میں سفر کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی اس وقت کی جائے جب وہ شاہراہ پر موجود ہوں، تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے پہلے صورتِ حال کو کنٹرول کیا جاسکے۔موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں پھیلی ہوئی قومی شاہراہوں اور موٹرویز پر ہر وقت ہر گاڑی کی نگرانی کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایسے میں لاکھوں مسافر خود شاہراہوں پر موجود ہوتے ہیں اور کسی بھی خلاف ورزی کو براہِ راست دیکھ سکتے ہیں۔اسی لیے شہریوں کو نگرانی کے عمل میں شامل کرنے سے موٹروے پولیس کو شاہراہوں پر ہونے والی خلاف ورزیوں کے بارے میں اضافی معلومات حاصل ہوں گی اور بروقت کارروائی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم کا حصہ بنیں اور کسی بھی ایسی خلاف ورزی کی اطلاع دیں جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔ ترجمان کے مطابق ایک ذمہ دارانہ اطلاع کسی بڑے حادثے کو روکنے اور کئی قیمتی جانیں بچانے کا سبب بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق شاہراہوں پر حادثات کی بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، خطرناک ڈرائیونگ، ڈرائیور کی غفلت، گاڑیوں کی ناقص حالت اور اوور لوڈنگ جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے معاملے میں ایسی خلاف ورزیاں مسافروں کے ساتھ ساتھ سڑک پر موجود دیگر افراد کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔موٹروے پولیس کی جانب سے شروع کی گئی یہ مہم اس حوالے سے اہم اقدام قرار دی جا رہی ہے کیونکہ اس میں ٹیکنالوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کو ایک مشترکہ نظام میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کیو آر کوڈ کے ذریعے شکایت درج کرانے کا آسان نظام اگر موثر انداز میں استعمال اور اس پر بروقت کارروائی یقینی بنائی جائے تو اس سے نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ میں قانون کی پاسداری بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز میں بھی ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا۔موٹروے پولیس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ دورانِ سفر اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں اور کسی بھی خطرناک خلاف ورزی کی صورت میں مناسب طریقے سے متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔ پولیس کے مطابق محفوظ شاہراہیں صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں کے تعاون سے ہی ایک محفوظ سفری نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں