محکمہ تعلیم میں مالی بے ضابطگیاں۔ انکوائری کے باوجود ذمہ دار آفیسر کیخلاف کارروائی نہ ہو سکی

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) محکمہ تعلیم فیصل آباد میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈز میں خردبرد کے ایک اہم معاملے پر اعلیٰ سطحی انکوائری مکمل ہونے کے باوجود کارروائی میں تاخیر نے مختلف حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ڈی ای او)تحصیل سٹی فیصل آباد محمد شکیل کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے محکمہ تعلیم پنجاب کی جانب سے انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشن (سیکنڈری ایجوکیشن) پنجاب نے 16 مئی 2026 کو معاملے کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے تھے۔الزامات میں موقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ افسر نے اپنی تعیناتی کے دوران دفتری سامان کی خریداری کے نام پر ایسے بل منظور کرائے جن کے بارے میں دفتر کے عملے کا کہنا تھا کہ متعلقہ سامان پہلے سے موجود تھا اور اس دوران کوئی نئی خریداری نہیں کی گئی۔ انکوائری میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ دفتر کی عمارت میں مرمت یا تزئین و آرائش نہ ہونے کے باوجود تعمیراتی اور مرمتی اخراجات کی مد میں رقم ظاہر کی گئی۔دستاویزات کے مطابق پٹرول کے بعض بلوں پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے، جن میں ایک مبینہ طور پر جعلی پٹرول بل شامل ہے۔ ان الزامات کی روشنی میں محکمہ تعلیم پنجاب نے ڈائریکٹر (پی اینڈ بی) کو مکمل تحقیقات، ذمہ داران کے تعین اور سفارشات پر مشتمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔ انکوائری رپورٹ میں ایک ملین روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر متعلقہ افسر کو عہدے سے ہٹانے، پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے اور تقریباً 11 لاکھ روپے کی ریکوری کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ متعلقہ حکام تک پہنچنے کے باوجود تاحال کسی حتمی محکمانہ کارروائی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔ادھر تعلیمی حلقوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے اور اگر الزامات ثابت ہو چکے ہیں تو قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں