فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) رشتہ سے انکار کرنے پر مسلح افراد نے مزاحمت کرنے پر ماں بیٹے کو گولیاں مار کر لڑکی کو اغواء کر کے فرار ہو گئے، 8سالہ لڑکا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ستیانہ پولیس نے نعش تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر کے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی۔ تفصیل کے مطابق 31 گ ب کی رہائشی حلیمہ بی بی نے بتایا کہ اس کے عزیز ندیم کیلئے اسکی بیٹی مہوش کا رشتہ مانگتے تھے تو انہوں نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا، گزشتہ روز حلیمہ بی بی’ اپنی بیٹی مہوش اور بیٹے لاہوریا کے ہمراہ گدھا ریڑھی پر جا رہی تھی کہ راستے میں ملزمان ندیم وغیرہ نے گھیر لیا اور لڑکی کو اٹھانے لگے تو مزاحمت پر فائرنگ کر دی، گولیاں لگنے سے حلیمہ بی بی اور 8سالہ لاہوریا بری طرح زخمی ہو گئے تو ملزمان لڑکی مہوش کو اغواء کر کے فرار ہو گئے، مضروبان کو طبی امداد کی غرض سے ہسپتال لایا گیا جہاں پر 8سالہ لاہوریا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا، تاہم پولیس نے نعش کو تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر کے قاتل اغواء کاروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔دریں ثنائفیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل’ سکیورٹی گارڈ کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا رکشہ ڈرائیور چل بسا’ نہر سے نوجوان کی نعش برآمد’ پولیس نے نعش تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر کے قاتلوں کی تفتیش شروع کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ نشاط آباد کے علاقہ مراد آباد روڈ پر غوثیہ میرج ہال کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر نوجوان کو گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا، شناخت نہ ہونے پر پولیس نے نعش تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر کے مقتول کے لواحقین اور قاتلوں کی تلاش شروع کر دی۔ جبکہ ڈائیوو روڈ پر سیمنٹ کی سلیب اٹھاتے ہوئے سفائر مارکی کے سکیورٹی گارڈ واسطہ پٹھان کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا رکشہ ڈرائیور فرحان ولد رمضان سکنہ 7 ج ب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گیا جبکہ رضاآباد کے علاقہ نڑوالا بنگلہ کے قریب نہر سے ملنے والی نعش کی شناخت غلام مرتضیٰ ولد امداد کے نام سے ہوئی، پولیس نے نعش کو قبضہ میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔




