جڑانوالہ (نامہ نگار) جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ نے بھانڈا پھوٹ دیا،قتل کے مقدمہ میں نامزد گرفتار ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ جیل منتقل کرنے کی مبینہ طور پر چھوڑنے کے الزام میں سابق انچارج انویسٹی گیشن تھانہ جیند افضل کیخلاف مقدمہ درج کر لیا، تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ سٹی مظفر کھوکھر نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے تحریر کیا کہ سابق انچارج انویسٹی گیشن تھانہ سٹی جنید افضل نے طمع نفسانی کی خاطر قتل کے مقدمہ نمبر 614/12میں نامزد ملزم و مطلوب اشتہاری احمد علی کو گرفتار کیا مگر قانونی تقاضے پورے نہ کئے اور 13سال بعد پکڑے جانیوالے ملزم احمد علی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کی بجائے مبینہ طور پر راستے میں چھوڑ دیا گیا اور پولیس ریکارڈ میں گرفتاری ظاہر کرنے کے باوجود کیس کی مثل جو مبینہ طور پر پرانے ریکارڈ میں چھپا دیا۔ ذرائع کے مطابق قتل کے ملزم کو عدالت میں بار بار طلب کرنے کے باوجود جب جیل سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ پیش کی تو انکشاف ہوا کہ سابق انچارج انویسٹی گیشن جیند افضل نے ملزم کو جیل منتقل نہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق انچارج انویسٹی گیشن تھانہ سٹی جنید افضل کو معطل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق کیس کی ہر پہلو سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور فرار کروائے گئے ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے اور اس معاملہ میں اگر مزید پولیس اہلکار ملوث پائے گئے تو انکے خلاف بھی سخت محکمانہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔




