ملک منفی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا،احسن اقبال

نارووال( نامہ نگار)وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا مارچ آگے کرنا عوام کی حمایت نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار ہے، پالیسیوں کا تسلسل معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے،ملک منفی سیاست، انتشار اور فساد کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نارووال میڈیکل کالج میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہوئی۔ دنیا کی تمام بڑی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی معیشت کو اپ گریڈ کیا۔ ایران، امریکہ جنگ کے باعث گزشتہ چند ماہ سے مشکلات کا سامنا ہے امید ہے جلد امن ہوگا، تیل اور ڈیزل کی قیمتیں دوبارہ سستی ہوں گی۔عالمی سطح پر پاکستان کو بہت زیادہ پذیرائی ملی ہے۔معرکہ حق نے دنیا میں پاکستان کا قد بلند کیا ہے۔ایران، امریکہ سفارت کاری سے پوری دنیا میں پاکستان کے چرچے ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے دفاعی معاہدے نے نئی شناخت دی ہے۔ پاکستان کو سفارتی، دفاعی اور معاشی کامیابیوں سے آگے بڑھنے کا پلیٹ فارم ملا ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو معاشی طور پر آگے لے جانے کی اولین شرط امن اور استحکام ہے ،بدامنی اور سیاسی بے یقینی میں کوئی بیرونی سرمایہ کار سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔نوجوانوں کو یونیورسٹیوں سے گھسیٹ کر سڑکوں پر نہیں لانا چاہیے۔ نوجوانوں کو کلاس رومز اور لیبارٹریوں میں جدید ہنر دے رہے ہیں۔ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی سکھا رہے ہیں۔پی ٹی آئی نوجوانوں کو یونیورسٹیوں سے نکال کر سڑکوں پر لانے کی سیاست کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے دے کر سڑکوں پر لانا چاہتی ہے۔ماضی میں پی ٹی آئی نوجوانوں کو مرغیاں اور انڈے دینے کی بات کرتی تھی۔ہم نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور ڈیجیٹل اسکلز دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ دو مختلف طرز سیاست اور دو مختلف سیاسی نظریات کی جنگ ہے۔ ایک سیاست ترقی کا نظریہ ہے، دوسری تشدد اور نفرت کا نظریہ ہے،پی ٹی آئی کے درد مند اور سنجیدہ لوگ اپنے ضمیر سے ضرور سوال کریں۔ ہمیں اس وقت امن، یکجہتی اور استحکام کی ضرورت ہے۔وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں سے پاکستان امن و استحکام کا جزیرہ ہے۔ پاکستان کے دشمن ہمارے امن اور استحکام کو انتشار میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارا دشمن جسے معرکہ حق میں شکست دی دہشت گردی کی فنڈنگ کر رہا ہے۔ ایک طرف دہشت گردی کی جنگ اور دوسری طرف سیاسی دہشت گردی شروع کی جا رہی ہے۔دارالخلافے کو سومنات بنانے کی دھمکیاں دینا پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ایسی سیاست کرنے والے پاکستان کے دشمنوں کے آلہ کار بن رہے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ عام آدمی اور پاکستانی عوام منفی سیاست کے حامی نہیں۔عوام چاہتے ہیں پاکستان کو چلنے اور آگے بڑھنے دیا جائے۔ عوام چاہتے ہیں پاکستان میں امن برقرار رہے اور عدم استحکام پیدا نہ ہو۔ سیاسی انتشار سے مشکل سے سنبھلنے والی معیشت دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔ سیاسی بے یقینی کی قیمت پی ٹی آئی نہیں عام آدمی اور نوجوان ادا کریں گے۔ 26کروڑ پاکستانیوں کے مستقبل کا دارومدار سیاسی استحکام پر ہے۔ پی ٹی آئی کا مارچ آگے کرنا عوام کی حمایت نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار ہے۔تمام اپوزیشن جماعتوں سے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا کہا ہے۔ جمہوری عمل کا تقاضا ہے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔پی ٹی آئی دور میں ہمارے خلاف بدترین انتقامی کارروائیاں ہوئیں۔میرے سمیت ہمارے ہر لیڈر نے جیل کاٹی اور جھوٹے مقدمات کا سامنا کیا۔ہم نے اپنے تمام مقدمات عدالتوں اور پارلیمنٹ میں لڑے۔ اللہ نے ہمیں ان جھوٹے اور بے بنیاد مقدموں میں سرخرو کیا۔ پی ٹی آئی بانی سیاسی قیدی نہیں، عدالت سے سزا یافتہ ہیں۔ پی ٹی آئی بانی کو کسی ایم پی او یا انتظامی حکم کے تحت گرفتار نہیں کیا گیا۔ 190ملین پائونڈ کی رقم سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے اور کرپشن کا معاملہ ہے۔ 190ملین پائونڈ کیس میں ملک ریاض کو 60ارب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔60ارب روپے کی لوٹ مار کے باوجود مظلوم بن کر انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔عوام ایسی منفی سیاست اور ہتھکنڈوں کی کبھی اجازت نہیں دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں