پاکستان اور بیلا روس کا مختلف شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے

اسلام آباد ( بیورو چیف) چیئرمین سینیٹ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے بیلاروس کے سرکاری دورے کے دوران پاکستانی پارلیمانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے منسک سائنٹیفک اینڈ پریکٹیکل سینٹر برائے سرجری، ٹرانسپلانٹولوجی اینڈ ہیماٹولوجی اور بیلاروسی اسٹیٹ میوزیم آف دی ہسٹری آف دی گریٹ پیٹریاٹک وار کا دورہ کیا۔ دوروں کے دوران جدید طبی سہولیات، ٹیکنالوجی، علمی تبادلے اور ثقافتی ورثے کے شعبوں میں پاکستان اور بیلاروس کے درمیان تعاون کے نئے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔طبی مرکز کے دورے کے موقع پر چیئرپرسن کونسل آف دی ریپبلک نتالیہ کوچانووا، چیئرمین سینیٹ اور پاکستانی وفد کو اعضا کی پیوند کاری، روبوٹک سرجری، مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیص اور CAR-T تھراپی سمیت بیلاروس کی جدید طبی صلاحیتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ وفد نے مرکز کے جدید ہائبرڈ آپریٹنگ کمپلیکس میں ایک براہِ راست طبی طریقہ کار کا مشاہدہ بھی کیا، جو مربوط سی ٹی اسکین اور انجیوگرافک ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔چیئرمین سینیٹ نے خصوصی طبی شعبوں میں بیلاروس کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے ادارہ جاتی روابط، پیشہ ورانہ و علمی تبادلوں، مہارتوں کے اشتراک اور جدید طبی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات پر زور دیا۔بیلاروسی اسٹیٹ میوزیم آف دی ہسٹری آف دی گریٹ پیٹریاٹک وار کے دورے کے دوران پاکستانی وفد نے ایسی تاریخی نمائشوں کا مشاہدہ کیا جن میں جنگ کے دوران ہونے والے بے پناہ انسانی نقصان، بیلاروسی عوام کی مزاحمت اور بیلاروس کی آزادی کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے بیلاروسی عوام کی بہادری اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور تاریخی یادداشت اور قومی ورثے کے تحفظ کے لیے بیلاروس کی کوششوں کو سراہا۔چیئرمین سینیٹ نے اس امر پر زور دیا کہ پارلیمانی روابط، عوامی سطح پر رابطوں، علم و تجربات کے تبادلے اور جدید شعبوں میں تعاون کے ذریعے پاکستان اور بیلاروس کے باہمی تعلقات کو مزید وسعت اور گہرائی دی جا سکتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم میں اضافہ اور دیرینہ دوستانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں