کراچی’صوابی’کوئٹہ (بیوروچیف) ملک بھر میں بارشوں سے ہلاکتیں 600سے زائد ہو گئیں’کراچی میں بارش نے تباہی مچادی، رات بھر مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا، مختلف حادثات میں 10افراد کی اموات، شہر میں آج عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج اور کل کراچی میں بارش منگل کی نسبت زیادہ ہوگی، کئی انڈر پاسز میں اب بھی پانی جمع ہے۔شہر کی اہم شاہراہوں سے رات گئے پانی کی نکاسی ممکن ہوسکی، شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ کے بعض مقامات پر اب بھی پانی موجود ہے۔اربن فلڈنگ نے شہر کی تمام سڑکوں کو دن بھر ندی نالوں میں تبدیل کردیا، بدترین ٹریفک جام کے سبب سیکڑوں گاڑیاں بند، کئی میں پیٹرول ختم ہوگیا، شہری گھنٹوں تک پانی میں پھنسے رہے۔سرجانی ٹاون، گارڈن، شادمان ٹاون، سخی حسن سمیت مختلف علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔نارتھ کراچی ناگن چورنگی کی فوڈ اسٹریٹ پر کئی دکانیں ڈوب گئیں، گلستان جوہر میں گھر کی دیوار گرنے سے چار اموات، شاہ فیصل کالونی میں میں کرنٹ لگنے سے دو نوجوان جاں بحق، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں کرنٹ لگنے سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق، گرومندر نالے میں ڈوبنے والے50 برس کے شخص کی لاش برآمد کرلی گئی۔دریںا ثناء ملک بھر میں بارشوں نے تباہی مچا دی نظام زندگی درہم برہم خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے مزید 45افراد جاں بحق اموات کی مجموعی تعداد 358تک پہنچ گئی بلوچستان میں بھی طوفانی بارشیں ضلع کچھی میں کوئٹہ سبی شاہراہ بند این ڈی ایم اے نے سندھ میں شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کی وارننگ جاری کر تے ہوئے کہا ہے کہ سندھ کے مختلف اضلاع میں آئندہ 12سے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کا امکان ہے آزاد کشمیر میں مون سون بارشوں سے اب تک 23 افراد جاں بحق اور 28 زخمی ہو چکے ہیںسیلاب اور شدید بارشوں کے پیش نظر بالائی خیبرپختونخوا میں کالجز اور جامعات 25 اگست تک جبکہ آزاد کشمیر کے اسکولوں میںچار روزہ تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ملک بھرمیں ریسکیواور ریلیف آپریشن تیزمتاثرہ علاقوں میں 500 ریلیف کیمپس قائم کردیئے گئے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج اور پاک فضائیہ امدادی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں انفرااسٹرکچر اورسڑکوں کو بحال کیاجارہاہے اب تک 6903افراد کو ریسکیو جبکہ 6ہزار سے زائد افراد کو امداد فراہم کی گئی جبکہ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا کہ 17 اگست سے اب تک 25 ہزار لوگوں کو بچایا گیا ہے 23اگست تک بارشوں کا ساتواں سپیل تیز ہوگا۔ این ڈی ایم اے کے مطابق بارش سے کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، حیدرآباد، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد اور کشمور متاثر ہو سکتے ہیں۔ بارش برسانے والا سسٹم آئندہ 2تا 3روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ بارش کا یہ شدید موسم سندھ کے مختلف حصوں میں اچانک سیلاب کا باعث بن سکتا ہے جس سے کراچی، حیدرآباد اور دیگر ساحلی علاقوں اور خاص طور پر نشیبی اور ناقص نکاسی آب والے مقامات پر شہری سیلاب کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیلابی تباہ کاریوں میں لاپتا 7افراد کی تلاش جاری ہے۔ بیشترمتاثر علاقوں میں پینے کے صاف پا نی اور غذائی قلت کا شدید سامنا ہے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم بیشتر سڑکیں بند ہونے سے امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دور افتادہ علاقوں جہاں سب سے زیادہ نقصانات ہوئے ہیں تک بنیادی خوراک پہنچانے کے لیے ریسکیو ون ون ٹو ٹو مقامی رضاکار الخدمت فاونڈیشن، انتظامیہ اور اہل علاقہ پانچ سے چھ گھنٹے تک پیدل سفر کر کے متاثرین تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شانگلہ میں 39ہلاکتیں رپورٹ ہوچکی ہیں۔




