لاہور (بیوروچیف) وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں پانی کے تحفظ، زیرِ زمین پانی کی بہتری اور جدید آبپاشی نظام کے فروغ کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مربوط حکمتِ عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کر دی۔وزیرِاعلیٰ کی زیرِصدارت ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر اور واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں پنجاب میں پانی کی بچت اور گرائونڈ واٹر مینجمنٹ سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی، اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں 110منی ڈیمز مکمل ہو چکے ہیں جبکہ پوٹھوہار کے بارانی پانی کو محفوظ بنانے کے لیے آئندہ تین سالوں میں مزید 800منی ڈیمز تعمیر کیے جائیں گے، جن سے تقریباً 32ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے جدید اور محفوظ آن گرائونڈ واٹر باڈیز بنانے کا پلان طلب کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے ایک ایک قطرے کو محفوظ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ سمجھدار قومیں اپنے آبی وسائل کی حفاظت کرتی ہیں اور پنجاب کو پانی کے بہتر انتظام کی جانب لے جانا ہوگا۔اجلاس میں محکمہ زراعت، آبپاشی، ہاسنگ اور لوکل گورنمنٹ کو الگ الگ پالیسیوں کے بجائے “ون ونڈو واٹر سیکیورٹی فریم ورک” کے تحت مشترکہ طور پر کام کرنے کا حکم دیا گیا، پانی کی ترسیل کے دوران تقریبا 30 فیصد اور استعمال کے دوران 25 فیصد ضیاع کو روکنے کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔حکام نے بتایا کہ پانی کی بچت کے لیے 7 ہزار کلومیٹر طویل 2,600 واٹر کورسز کی پختگی کا کام مکمل کیا جا چکا ہے، جس سے تقریبا 20 فیصد پانی کی بچت متوقع ہے، آئندہ تین سالوں میں مزید 11,500 کلومیٹر طویل 4,500 واٹر کورسز کی پختگی اور اصلاح کا منصوبہ بھی شامل ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹم کے ذریعے 18 ہزار ایکڑ فٹ پانی کی بچت اور زرعی پیداوار میں 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، آئندہ تین سالوں میں مزید 30 ہزار ایکڑ اراضی کو ڈرِپ اور سپرنکلر آبپاشی کے جدید نظام پر منتقل کیا جائے گا۔گرائونڈ واٹر مینجمنٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ گوجرانوالہ، گجرات اور لاہور ڈویژن میں 100 ریچارج ویلز فعال ہیں جبکہ مزید 300 ریچارج ویلز تکمیل کے قریب ہیں، زیرِ زمین پانی کے بہتر انتظام کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کو مزید موثر بنانے اور واٹر کنزرویشن کی نگرانی کے لیے خصوصی انسانی وسائل تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔وزیرِاعلی نے کسانوں کے لیے بھی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جاری مالی سال میں 50 فیصد سبسڈی پر 1,000 نئے لیزر لینڈ لیولرز فراہم کیے جائیں گے، اجلاس میں صوبے میں کھاد کی دستیابی اور مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران اٹک، تلہ گنگ، گوجر خان اور راولپنڈی میں تعمیر کیے گئے نئے منی ڈیمز کے تصویری شواہد بھی پیش کیے گئے۔




