پاکستان کی بھارت کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر مذاکرات کی پیشکش

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے عالمی تنازعات کے حل کے لیے فوری سفارت کاری، جنگ بندی اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگوں کا کوئی فوجی حل نہیں۔ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب امور پر بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب طاہر اندرابی نے جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی کے عمومی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں جنگوں کا دائرہ وسیع ہورہا ہے، بین الاقوامی قانون کی عمل داری کمزور پڑ رہی ہے اور طاقت کے یک طرفہ استعمال کو معمول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فوجی اخراجات مسلسل گیارہویں سال بڑھ گئے ہیں اور اسلحے کی دوڑ تشویش ناک صورت اختیار کرچکی ہے۔طاہر اندرابی نے مشرق وسطی میں فوری کشیدگی کم کرنے، معمول کی آمدورفت بحال کرنے اور تمام ممالک کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے احترام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ روس یوکرین جنگ 4 سال سے جاری ہے اور اس کا کوئی فوجی حل نہیں۔ غزہ میں جنگ بندی برقرار رہنی چاہیے اور اس کے نتیجے میں قبل از 1967 سرحدوں کی بنیاد پر القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہونا چاہیے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سامنے آئی۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے مشترکہ دفاعی معاہدے کو اقوام متحدہ کے منشور سے ہم آہنگ اور دفاعی نوعیت کا قرار دیا۔بھارت کے حوالے سے طاہر اندرابی نے مئی 2025 کی فوجی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع میں جواب دیا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل رکھنے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ نہیں چاہتا، تاہم اپنے دفاع کی صلاحیت برقرار رکھے گا۔انہوں نے جوہری ہتھیاروں، خلا میں اسلحے کی دوڑ اور فوجی نظاموں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے لاحق خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی اور زور دیا کہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ ہر حال میں انسانوں کے ہاتھ میں رہنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں