ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) پرائیویٹ سکولز فورم پنجاب کے اجلاس میں تعلیمی سرگرمیوں کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جوئے کے اڈے، منشیات فروش اور دیگر سماجی برائیاں بلا تعطل جاری ہیں، جبکہ سکولز کو تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے سے روکا جا رہا ہے، جو پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میاں ندیم شہزاد نے کہا کہ تعلیم کسی بھی صورت تعطل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ بدقسمتی سے پنجاب میں تعلیم کی ترجیحات واضح نہیں رہیں، جہاں غیر قانونی سرگرمیاں کھلے عام جاری ہیں اور تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر چیئرمین پرائیویٹ سکولز فورم پنجاب رانا شاہد مقرب، چوہدری ندیم سندھو، میاں ندیم شہزاد، چوہدری گلزار حسین، رانا خلیل احمد، حاجی جاوید اقبال، رانا جابر رشید، ملک طارق، ڈاکٹر نعمان گل، ابرار حسین شاہ، محمد احمد، فقیر حسین و دیگر نے مشترکہ طور پر اظہارِ خیال کیا۔شرکا کا کہنا تھا کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب سردی کی شدت نہیں ہوتی تب چھٹیاں کر دی جاتی ہیں، اور جب سردی عروج پر پہنچتی ہے تو سکول کھول دیے جاتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی یہ پالیسیاں زمینی حقائق کے برعکس اور ناقابلِ فہم ہیں، جن کا خمیازہ براہِ راست طلبہ کو بھگتنا پڑتا ہے۔مزید کہا گیا کہ انہی دنوں میں بچوں کے امتحانات قریب ہوتے ہیں، جن کے لیے تسلسل کے ساتھ تیاری ناگزیر ہوتی ہے، مگر ہر سال انہی حساس دنوں میں سکول بند کر کے طلبہ کو ناقابلِ تلافی تعلیمی نقصان سے دوچار کیا جاتا ہے، جس کا ازالہ کسی صورت ممکن نہیں۔اجلاس کے اختتام پر مطالبہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت ہوش کے ناخن لے، موسمِ سرما کی چھٹیوں کو کم سے کم رکھا جائے، جبکہ بورڈ کلاسز کے لیے تعلیمی سلسلہ بلا تعطل جاری رہنا چاہیے تاکہ طلبہ کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے اور تعلیم کو اس کا جائز مقام دیا جا سکے۔




