پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025 ء کے اہم نکات

1۔اس بل کے تحت پنجاب میں مقامی حکومتوں کا نیا نظام قائم کیا جا رہا ہے تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں اور عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں۔ اس نظام میں درج ذیل ادارے شامل ہوں گے،ٹاؤن کارپوریشن، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی تحصیل کونسل ،یونین کونسل’2 یونین کونسل کی تشکیل، ہر یونین کونسل میں9جنرل ممبران (کونسلرز) ہوں گے’4مخصوص نشستیں ہوں گی یعنی ایک یونین کونسل میں کل13ممبران ہوں گے’ مخصوص نشستیںایک خاتون ممبرایک کسان / مزدور ممبرایک نوجوان ممبرایک غیر مسلم ممبر ، 3۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین کیسے منتخب ہوں گے؟چیئرمین اور وائس چیئرمین یونین کونسل کے اندر سے منتخب ہوں گے۔جنرل ممبران اور مخصوص نشستوں کے ممبران مل کر انتخاب کریں گے۔انتخاب شو آف ہینڈ (ہاتھ اٹھا کر) ہوگا۔چیئرمین اور وائس چیئرمین مشترکہ امیدوار (Joint Candidate) کے طور پر الیکشن لڑیں گے۔ 4۔ کونسلر کیسے منتخب ہوں گے؟جنرل کونسلرزبراہ راست عوام ووٹ دیں گے۔خفیہ رائے شماری (Secret Ballot) ہوگی۔پورا یونین کونسل ایک ملٹی ممبر وارڈ ہوگا۔ہر ووٹر صرف ایک ووٹ دے سکے گا۔سب سے زیادہ ووٹ لینے والے 9 امیدوار کامیاب قرار پائیں گے۔ مخصوص نشستوں پر ممبران کا انتخاب جنرل کونسلرز کریں گے،یہ انتخاب ہاتھ اٹھا کر ہوگا، 5۔ کونسلر بننے کی شرائط ،کسی بھی شخص کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کا نام ووٹر لسٹ میں موجود ہوعمر کم از کم 21 سال ہو،چیئرمین یا وائس چیئرمین کے لیے عمر کم از کم 25 سال ہو،یوتھ نشست کے لیے عمر 18 سے 32 سال کے درمیان ہو، 6۔ کون لوگ الیکشن نہیں لڑ سکیں گے؟درج ذیل افراد نااہل ہوں گے،کرپشن یا اخلاقی جرم میں سزا یافتہ، سرکاری ملازم، نادہندہ ،بینک قرضہ رکھنے والے ،بجلی، گیس، پانی یا ٹیکس کے بڑے نادہندہ ،جعلی معلومات دینے والے دوہری سیاسی نشست رکھنے والے افراد، 7۔ یونین کونسل کے اختیارات اور ذمہ داریاں،یونین کونسل کو کافی اہم اختیارات دئیے گئے ہیں۔بنیادی اختیارات1۔ بجٹ منظور کرنایونین کونسل اپنا بجٹ منظور کرے گی۔ 2۔ ٹیکس اور فیس وصول کرنامقامی سطح پر ٹیکس، فیس، جرمانے اور دیگر چارجز وصول کر سکے گی، 3۔ پیدائش، وفات، شادی اور طلاق کی رجسٹریشن تمام اندراجات یونین کونسل کرے گی، 4۔ چھوٹے ترقیاتی کام ،گلیاں، نالیاں، پانی، صفائی وغیرہ کے چھوٹے ترقیاتی منصوبے کر سکے گی، 5۔ پینے کے پانی کا انتظام ،ہینڈ پمپ، کنویں، ٹینک اور پانی کے دیگر ذرائع کی دیکھ بھال کرے گی۔ 6۔ صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ میں تعاو ن سیوریج اور صفائی کے نظام میں اعلیٰ سطح کی لوکل گورنمنٹ کے ساتھ تعاون کرے گی، 7۔ تجاوزات ختم کرانا،سرکاری راستوں اور عوامی مقامات سے تجاوزات ختم کرنے میں کردار ادا کرے گی،8۔ کھیل اور ثقافتی
سرگرمیاں،مقامی کھیلوں، میلوں اور ثقافتی تقریبات کو فروغ دے گی، 9۔ عوامی شکایات اور مسائل ،علاقے میں عوامی سہولیات کی کمی کی نشاندہی کرے گی اور بہتری کی سفارش کرے گی، 10۔ قدرتی آفات میں مدد،سیلاب، زلزلہ، وبا یا ہنگامی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے گی، 8۔ یونین کونسل کو تنازعات حل کرنے کا اختیاریہ بل یونین کونسل کو مقامی تنازعات حل کرنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔کون سے تنازعات؟خاندانی تنازعات ،دیوانی تنازعات ،معمولی فوجداری تنازعات ،طریقہ کارفریقین کی رضامندی سے معاملہ یونین کونسل کو بھیجا جا سکے گا۔یونین کونسل مصالحت کرانے کی کوشش کرے گی،5 سے 9 ممبران پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے گی۔ عدالت بھی بعض کیس یونین کونسل کو بھیج سکے گی، 9۔ تحصیل کونسل اور میونسپل ادارے تحصیل کونسل اس میں شامل ہوں گے،چیئرمین،وائس چیئرمین تمام یونین کونسل چیئرمین مخصوص نشستوں کے ممبران میونسپل کارپوریشن میئرو ڈپٹی میئر،یونین کونسل چیئرمین مخصوص نشستیں ، 10۔ بڑی لوکل گورنمنٹ کے اختیارات ٹاؤن، میونسپل اور تحصیل حکومتوں کو بڑے اختیارات د ئیے گئے ہیں،شہری سہولیات ،سیوریج، صفائی، سڑکیں،سٹریٹ لائٹس۔ پارکس، قبرستان پبلک ٹرانسپورٹ ،پارکنگ ،فائر بریگیڈ، بلڈنگ اور ہاؤسنگ کنٹرول بلڈنگ پلان منظور کرنا،ہاؤسنگ سوسائٹیز ریگولیٹ کرنا،لینڈ یوز پلان تجاوزات کے خلاف کارروائی ،سرکاری زمینوں سے تجاوزات ختم کر سکیں گے، 11۔ کونسل کا دورانیہ ،ہر لوکل گورنمنٹ کی مدت 5 سال ہوگی۔منتخب کونسل اپنی مدت پوری کرے گی۔مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن کے اندر نئے انتخابات کرانا ضروری ہو نگے، 12۔ سیاسی جماعت تبدیل کرنے پر نااہلی ،اگر کوئی منتخب کونسلرپارٹی تبدیل کرے یا پارٹی ہدایت کے خلاف ووٹ دے تو اسے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے، 13۔ لوکل گورنمنٹ انتخابات کون کرائے گا؟تمام بلدیاتی انتخابات Election Commission of Pakistan کروائے گا،14۔ اس بل کی نمایاں باتیں،اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے گئے ہیںیونین کونسل کو زیادہ بااختیار بنانے کی کوشش کی گئی ہے ،مقامی تنازعات کے حل کا نظام دیا گیا ہے ،خواتین، نوجوانوں، کسانوں اور اقلیتوں کو نمائندگی دی گئی ہے ،مقامی ترقیاتی کاموں اور عوامی سہولیات پر زور دیا گیاہے ،بلدیاتی اداروں کو مالی اختیارات بھی د ئیے گئے ہیں،شفافیت اور عوامی شرکت کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں