پنجاب میں سیلاب سے تباہی،فوج طلب

لاہور(بیوروچیف) بھارت کی جانب سے دریائوں میں پانی چھوڑنے اور مسلسل بارشوں کے بعد پنجاب کے بڑے دریائوں میں پانی کے بہائو میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، دریائے چناب، ستلج اور راوی میں پانی کی سطح بلند ہو کر خطرناک حد کے قریب پہنچ گئی ہے پنجاب کے متعدد علاقوں میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی، جس کے باعث متعدد دیہات زیر آب آگئے، پنجاب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے باعث ضلعی انتظامیہ کی مدد کیلئے پاک فوج کو بھی طلب کر لیا گیاوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر بارشوں اور سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر فوری امدادی اقدامات کیلئے اہم فیصلے کئے گئے، لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال، اوکاڑہ میں ضلعی انتظامیہ کی امداد کیلئے فوج طلب کرلی گئی۔حکومت پنجاب نے سول انتظامیہ کی امداد اور انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے فوج طلب کی گئی، ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس پہلے ہی فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔پنجاب کے 7اضلاع میں ضلعی انتظامیہ نے فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست کی تھی ۔ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارت داخلہ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے، جس کے تحت فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد مقرر کی جائے گی،جبکہ ضرورت پڑنے پر آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی متاثرہ علاقوں میں فراہم کئے جائیں گے، لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال سرگودھا اور اوکاڑہ میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کیلئے فوج کو طلب کیا جا رہا ہے۔ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق حکومت پنجاب اور تمام متعلقہ ادارے سیلابی صورتحال کو چوبیس گھنٹے (24/7) مانیٹر کر رہے ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔حکومتی سطح پر جاری اس بروقت اور منظم ردعمل کا مقصد نہ صرف عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنا ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ بڑے نقصان سے بچا کو یقینی بنانا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں