میڈرڈ (مانیٹرنگ ڈیسک) پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، دو ادویات کے حیران کن نتائج میں اموات کا خطرہ نصف سے بھی کم رہ گیا۔امریکی دوا ساز کمپنی ایمن کی تیار کردہ کینسر کی دوا امڈیلٹرا کو ایسٹرا زینیکا کی امیونوتھراپی ایمفنزی کے ساتھ استعمال کرنے سے پھیپھڑوں کے ایک خطرناک اور مشکل علاج والے کینسر کے مریضوں کی بقا میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے۔طبی تحقیق کے مطابق دونوں ادویات کے امتزاج نے وسیع پیمانے پر پھیل جانے والے اسمال سیل لنگ کینسر کے مریضوں میں صرف ایمفنزی استعمال کرنے کے مقابلے میں موت کے خطرے کو 58 فیصد تک کم کردیا۔تحقیق میں شامل مریضوں میں دونوں ادویات استعمال کرنے والوں کی اوسط بقا 21.1 ماہ رہی، جبکہ صرف ایمفنزی لینے والے مریضوں کی اوسط بقا 12.7 ماہ ریکارڈ کی گئی۔کمپنی کے مطابق مشترکہ علاج حاصل کرنے والے تقریبا 80 فیصد مریض ایک سال بعد بھی زندہ تھے، جبکہ صرف ایمفنزی لینے والے گروپ میں یہ شرح 53 فیصد رہی۔ایمفنزی اس وقت ان مریضوں کے لیے کیمو تھراپی کے بعد معیاری علاج تصور کی جاتی ہے جن میں ابتدائی کیمو تھراپی کے بعد بیماری مزید نہیں بڑھتی۔ نئی تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امڈیلٹرا کو علاج کے ابتدائی مرحلے میں شامل کرنے سے مریضوں کو زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ایمن کے چیف میڈیکل آفیسر پال برٹن نے نتائج کو وسیع پیمانے پر پھیلنے والے چھوٹے خلیوں والے پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں غیر معمولی پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ امڈیلٹرا کو نسبتا پہلے استعمال کرنے سے طبی فوائد میں اضافہ ہوتا ہے۔تحقیق کے مکمل نتائج میڈرڈ میں ہونے والی یورپی سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی کی کانفرنس میں پیش کیے گئے اور طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں بھی شائع ہوئے۔امڈیلٹرا دوہری ہدف رکھنے والی ادویات، یعنی بائی اسپیسیفک اینٹی باڈیز کی ایک قسم ہے، جو مدافعتی نظام کے ٹی سیلز کو کینسر کے خلیوں کے قریب لاکر انہیں تباہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔دوسری جانب ایمفنزی ایک مختلف نوعیت کی امیونوتھراپی ہے جو کینسر کے خلیوں کی جانب سے مدافعتی نظام سے چھپنے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقہ کار کو روکتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار نئے چھوٹے خلیوں والے پھیپھڑوں کے کینسر کے کیسز سامنے آتے ہیں۔پھیپھڑوں کے کینسر کی مجموعی اقسام میں زیادہ تر کیسز نان اسمال سیل ہوتے ہیں، جبکہ اسمال سیل کینسر تقریبا 15 فیصد کیسز پر مشتمل ہوتا ہے۔اس بیماری میں سرجری کے لیے موزوں مریضوں کی تعداد بھی بہت کم ہوتی ہے اور زیادہ تر مریضوں کو ابتدائی طور پر کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی دی جاتی ہے۔




