فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پیرافورس میں نئے بھرتی ہونیوالے افسران وملازمین کو ہوم ڈسٹرکٹ (رہائشی علاقے) میں تعینات کیا جائے’ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی بجائے پیرافورس کو افسران کے ماتحت کیا جائے تاکہ پیرافورس تجاوزات کے خاتمہ’ گرانفروشوں اور قبضہ مافیا کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی جا سکیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبہ بھر میں پیرافورس تشکیل دیتے ہوئے بااختیار بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پیرافورس کو شہر بھر میں تجاوزات کے خاتمہ’ مہنگائی پر کنٹرول کرنے اور قبضہ مافیا کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔ تاہم بعدازاں پیرافورس کو ضلعی ایڈمنسٹریشن کے ماتحت کر دیا گیا۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو عوامی نمائندوں کی آشیرباد حاصل ہونے کی وجہ سے پیرافورس بلاامتیاز کارروائیاں کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے۔ پیرافورس بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز’ بڑی مارکیٹوں میں چھاپے نہیں مار رہی جبکہ سڑک کنارے کھڑے ریڑھی چھابڑی فروشوں کو جرمانے کرنے اور ان کا سامان ضبط کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیرافورس میں بھرتی ہونے والے افسران وملازمین کو دوسرے شہروں میں تعینات ہونے کی وجہ سے پیرافورس اہلکاروں کو رہائش اور آمدورفت میں ہی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی آدھی سے زیادہ تنخواہ رہائش’ کھانے پینے اور سفری اخراجات پر خرچ ہو جاتی ہے اور ان کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جسکی وجہ سے پیرافورس میں بھرتی ہونے والے افسران وملازمین کو فوری طور پر ان کے ہوم ڈسٹرکٹ (رہائشی علاقے) میں ٹرانسفر کیا جائے اور ان کی مالی مشکلات کا حل ہو سکے۔




