اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جیل میں موجودگی کے دوران پارٹی کے اندر ایک عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ موجودہ حالات میں مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کو آگے بڑھایا جائے یا مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کی قیادت کے درمیان بھی احتجاجی حکمت عملی، باہمی مشاورت اور کارکنوں کی قربانیوں کے حوالے سے تحفظات وقتا فوقتا سامنے آتے رہے ہیں۔خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت اور نسبتاً فعال تنظیمی ڈھانچے کے باعث صوبائی قیادت احتجاجی سیاست کو زیادہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھانے پر زور دیتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ پنجاب میں پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کو درپیش گرفتاریوں، مقدمات، پولیس کارروائیوں اور تنظیمی خلا کے باعث صورتحال مختلف ہے۔




