اسلام آباد (بیورو چیف)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوامی ایکشن کمیٹی کو جوابی خط لکھ دیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز پرتشدد کے الزامات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں،فریقین کی رضامندی سے ترتھ اینڈری کنسیلیشن کمشین بنایا جائے۔اپنے خط میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پْرامن شہریوں کو دہشتگرد یا غیر ملکی ایجنٹ قرار نہیں دینا چاہیے، سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق کیلئے پرامن احتجاج عوام کا حق ہے، مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والوں کے خلاف الزامات کی غیر جانبدار تحقیقات ہوں، موجودہ محاذ آرائی طاقت یا اشتعال انگیز الزامات سے حل نہیں ہوسکتی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریری معاہدوں کو عملدرآمد کے تنازع کی نذر نہیں ہونا چاہیے، حالیہ واقعات پر متضاد مؤقف، الزامات سے نہیں حقائق سے فیصلہ ہو، سچائی اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کرتا ہوں، کمیشن تمام فریقوں کے مؤقف، شکایات اور حقائق کا جائزہ لے، کمیشن سیاسی، قانونی اور انتظامی معاملات پر سفارشات مرتب کرے۔پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھا کوئی شخص کشمیری شناخت کا فیصلہ نہیں کر سکتا، آزاد کشمیر کے عوام کی عزت اور شناخت حکومت کی مرہونِ منت نہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنی تحریک کو پْرامن رکھے، فوری مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے، یہ اپیل ہتھیار ڈالنے کیلئے نہیں، انسانی جانیں بچانے کے لیے ہے، پاکستان اور کشمیر کا تعلق وقار، حقوق اور باہمی احترام پر ہونا چاہیے، مزید خونریزی روکنا اور اعتماد بحال کرنا اولین قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کے قیام پر اتفاق ہو تو لانگ مارچ اور دھرنے معطل کیے جائیں، حکام بھی کمیشن کے نتائج تک مزید اقدامات سے گریز کریں، پیپلز پارٹی کشمیر بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، حکومتِ پاکستان، حکومتِ آزاد کشمیر اور مظاہرین تجویز پر اتفاق کریں۔ دریں اثناء آزاد کشمیر کے پارٹی عہدیداران اورٹکٹ ہولڈرزسے خطاب کرتے بلاول بھٹو نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاستی قانون کے مطابق تحقیقات کریں، اپنی تجویز کے بارے میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ بندوق، دھرنے کے زور پر ترمیم نہیں ہو سکتی، ہم ڈیبیٹ کرنے کے لیے تیار ہے، کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے، مہاجرین کے نمائندگان کو پارلیمنٹ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ کشمیریوں کا مسئلہ صرف آزاد کشمیر میں حل کرنے کے حق میں ہوں، ہم نے کشمیریوں کے ساتھ کیے گئیعہد کو پورا کرنا ہے، سیاسی مخالفین سمجھتے ہیں روزگار چھین کر ترقی ہوتی ہے، مخالفین کو سمجھانا چاہتا ہوں وہ غلط ہیں۔بلاول بھٹو ز رداری نے کہا کہ کشمیریوں کا مستقبل صرف کشمیریوں کے ہاتھ میں ہے، موجودہ صورتحال کا پرامن حل چاہتیہیں، اگر کشمیریوں کو مزید حقوق چاہئیں تو مل کرجدوجہد کرنی ہے، باقی جماعتیں تو آپ کیحقوق پر ڈاکہ ڈالنے والی جماعتیں ہے۔ان کا ٹکٹ ہولڈرزکو ہدایت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صرف پیپلزپارٹی روزگار اور حقوق دینے والی جماعت ہے، امیدواروں سے اپیل ہے الیکشن میں وقت کم ہے، دن رات محنت کریں، گھر، گھر جا کر پیپلزپارٹی کا پیغام پہنچائیں۔چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ پاک فوج کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں، آپ سیاست ضرور کریں لیکن الفاظ کا چنا سوچ سمجھ کر کریں۔




