چیئرمین نیب کی تقرری کا عمل مزید شفاف بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد (بیوروچیف)حکومت نے اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر 2026تک ڈیکلئر کرنے کا فیصلہ کر لیا،عوام کو تمام معلومات آن لائن دستیاب ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق ایسٹس ڈیکلریشن کا نظام وضع کرنے کیلئے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے، منی لانڈرنگ اور مشکوک مالی سرگرمیوں کی بہتر نگرانی شروع کی جا چکی ہے ، دستاویز کے مطابق اعلی سرکاری افسران کے اثاثہ جات تک بینکوں کی رسائی مزید بڑھا دی گئی ہے۔اثاثہ جات کی معلومات مرکزی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے جمع ہوں گی، جون 2026ء تک ایف بی آر اعدادوشمار اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گا۔ بینکوں نے کتنی بار اثاثہ معلومات تک رسائی حاصل کی پتہ چل سکے گا۔جولائی 2026ء تک اثاثہ جات جمع کرانے کیلئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنایا جائے گا، اکتوبر 2026ء تک کرپشن رسک اسسمنٹ کا طریقہ کار تیار کیا جائے گا اس کا مقصد سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خطرات کم کرنا ہے۔حکومت نے کرپشن کیخلاف سرگرم ادارے مضبوط بنانے کی بھی یقین دہانی کروائی ہے جبکہ قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی تقرری کا عمل مزید شفاف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، آئی ایم ایف کو بتایا گیا قانون میں ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔نیب کی تحقیقات، مقدمات کے قواعد اور سالانہ کارکردگی رپورٹ شائع کی جائے گی، صوبائی سطح پر انٹی کرپشن اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے گی تاکہ مالی بدعنوانی سے متعلق خطرات پر قابو پایا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں