ڈی پورٹ ہونیوالے شہریوں کے پاسپورٹ کی منسوخی کا عمل شروع

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت نے 7ہزار 800سے زائد شہریوں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جنہیں بیرون ملک گداگری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعلی حکام نے سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور بیرون ملک پاکستانی مشنز سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 2019سے 2025تک 7 ہزار 873پاکستانیوں کو متعدد وجوہات کی بنا پر ڈی پورٹ کیا گیا جن میں سے تقریبا 5 ہزار 600کو سعودی عرب، عمان اور قطر سے بھیک مانگنے کیوجہ سے ڈی پورٹ کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں ڈال دیے ہیں۔حکام نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ حکومت نے گداگری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے تمام ڈی پورٹیز کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا آغاز کیا ہے، ڈی پورٹ کیے گئے یہ پاکستانی شہری مبینہ طور پر خلیجی ممالک میں بھیک مانگنے کے علاوہ دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث تھے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل کی ترقی کا اجلاس سینیٹر ذیشان خانزادہ کی صدارت میں خاص طور پر پارلیمنٹ ہاس میں طلب کیا گیا جس میں بیرون ملک غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث ڈی پورٹ ہونے والوں کے معاملے اور ان کیخلاف کی جانیوالی کارروائیوں پر غور کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں