وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کو میزبانی’ ثالثی اور امن قائم کرنے کا ایسا موقع ملا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ایران اور امریکہ کو کئی دہائیوں کے بعد آمنے سامنے بٹھانے کا سہرا پاکستان کو جاتا ہے، خلیجی تنازع حل کرانے کیلئے کوششیں جاری ہیں ہماری کاوشوں سے جنگ بندی اب بھی قائم ہے وزیراعظم نے مذاکرات کیلئے اسلام آباد آمد پر امریکی اور ایرانی صدور سے بھی اظہار تشکر کیا، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے جاپانی وزیراعظم سے ٹیلی فون پر گفتگو اور کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ امن عمل علاقائی استحکام اور عالمی توانائی کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا، وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں شہباز شریف’ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کی قرارداد منظور کی گئیں دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ سے ملاقات کی’ حالیہ پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اس موقع پر چینی سفیر کا کہنا تھا کہ اولین ترجیح جنگ کو روکنا ہے، دریں اثناء بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب اور ترکیہ کا دورہ کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان کو جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کا موقع ملا دنیا کی تاریخ میں اوسلو’ جنیوا’ گڈفرائیڈے معاہدے موجود ہیں اسی طرح سوڈان اور دوسرے علاقوں میں جنگ بندی کرانے اور امن قائم کرنے میں کئی کئی ماہ اور کئی کئی سال لگے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان بلواسطہ نہیں بلکہ بلاواسطہ آمنے سامنے 21گھنٹے تک مذاکرات ہوئے اس کیلئے پاکستان کی قیادت نے دن رات محنت کی، پاکستان کی پرخلوص کاوشوں کی وجہ سے جنگ بندی آج بھی قائم ہے اور جو معاملات اٹکے ہوئے ہیں ان کو حل کرانے کیلئے پوری کوششیں جاری ہیں وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات تاریخی اقدام ہیں،، بلاشبہ ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کا جنگ بندی کیلئے کردار اہم ہے وزیراعظم شہباز شریف’ نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار’ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے اسلام آباد میں مذاکرات کی بیٹھک ہوئی جو بڑی کامیابی ہے پاکستان نے ٹرمپ اور ایران سے رابطے کر کے جنگ بندی کیلئے تاریخی کردار ادا کیا ٹرمپ جو ایران کو تباہی کی جانب دھکیلنے کیلئے تیار بیٹھا تھا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی درخواست پر دو ہفتے کی جنگ بندی کیلئے رضامند ہوا اور ساتھ ہی مستقل طور پر جنگ بندی کے معاہدہ پر مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا جس کے بعد امریکی اور ایرانی وفود اسلام آباد پہنچے اور مذاکرات کی میز پر بیٹھے دونوں فریقین کو ایک میز پر بٹھانا بہت بڑا کارنامہ ہے لیکن فریقین کسی نتیجہ پر نہیں پہنچے جس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کی کوشش رائیگاں گئیں بلکہ تاحال اس مسئلہ کے حل کیلئے کوشاں ہیں اور پُرامید ہیں کہ قیام امن کیلئے ان کی کوششیں ضرور کامیاب ہوں گی۔




