طاقتور بیوروکریسی’ کمزور ترین کارکنان

ذوالفقار علی بھٹو جب وزیراعظم پاکستان تھے، اس وقت وہ دورہ لائلپور پر آئے، دھوبی گھاٹ کے وسیع وعریض میدان میں جلسہ عام کیلئے پنڈال سجایا گیا، ہزاروں کی تعداد میں کرسیاں لگائی گئیں، اس جلسہ عام میں عوام کا جم غفیر تھا، گرائونڈ کے اندر اور باہر لوگ ہی لوگ تھے، سٹیج پر وزیراعظم کیساتھ اُس وقت کے سرکاری افسران جلوہ افروز تھے، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے پہلو میں کرسی پر بیٹھے سرکاری افسر سے پوچھا کہ پیپلزپارٹی لائل پور کا صدر سٹیج پر کس کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، سرکاری افسر نے نفی میں جواب دیا کہ وہ سٹیج پر نہیں موجود بلکہ پیپلزپارٹی لائلپور کا صدر چوہدری اقبال باجوہ پنڈال میں بیٹھا ہوا ہے، اس پر ذوالفقار علی بھٹو سیخ پا ہوئے اپنی کرسی سے اُٹھ کر مائیک پر گئے اور کہا کہ میرا صدر یعنی پیپلزپارٹی لائلپور کا صدر کہاں ہے؟۔ پنڈال میں بیٹھے ہوئے چوہدری اقبال باجوہ کرسی پر کھڑے ہوئے اور ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا کوٹ اور ٹائی اتاری، شرٹ کے بازو اوپر کئے اور مخصوص عوامی انداز میں پنڈال میں جا کر چوہدری اقبال باجوہ کا ہاتھ تھام کر انہیں سٹیج پر لے آئے، سٹیج پر بیٹھے ہوئے تمام سرکاری افسران کو نیچے اتار دیا اور اپنے سیکرٹری کو حکمناً کہا کہ آئندہ جس جگہ بھی جلسہ عام ہو گا، اس شہر’ ضلع کا صدر میرے ساتھ سٹیج پر بیٹھا ہو گا، اس کے علاوہ کوئی بھی سرکاری افسر آئندہ سے سٹیج پر نہیں بیٹھا کریگا۔ یہ قصہ پاکستان مسلم لیگ (ن) فیصل آباد کے سٹی صدر شیخ اعجاز احمد ایڈووکیٹ سابق ایم پی اے ‘ سابق چیئرمین FDA کیساتھ 4 روز قبل ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) اجلاس کے دوران پیش آنیوالے واقعہ پر یاد آ گیا۔ اس اجلاس میں ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ر) ندیم ناصر نے معمولی سی بات پر حکمران جماعت کے سٹی صدر کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا، جس کی تفصیلات سے ہر کوئی آگاہ ہو چکا ہے۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بھی مسلم لیگ (ن) کی ہیں، اس جماعت کے سٹی صدر کے ساتھ پیش آنیوالے انتہائی افسوسناک واقعہ پر اس جماعت کے بڑوں کی خاموشی لمحہ فکریہ اور مسلم لیگی کارکنوں کیلئے شرمندگی کا مقام ہے اور تو اور اس جماعت کے صوبائی صدر سینیٹر رانا ثناء اﷲ خاں مشیر وزیراعظم پاکستان کا تعلق بھی فیصل آباد سے ہے، انہوں نے بھی اس پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہا رنہیں کیا۔ اس قسم کے واقعات کے باعث حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک متاثر ہو رہا ہے اور یہ بات لیگی قائدین کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے، شیخ اعجاز احمد پارٹی کے ساتھ 30سال سے منسلک ہیں جن کے دامن پر لوٹاکریسی کا داغ نہیں’ انہوں نے ہمیشہ اپنے قائدین سے وفاداری کا حق ادا کیا، تحریک نجات کے موقع پر شیخ اعجاز احمد جناح کالونی میں رہائش پذیر تھے، گھر پر پولیس کا ریڈ ہوا، پولیس والے دروازہ توڑ کر اندر آئے، لیڈی کانسٹیبل نے ان کی والدہ کیساتھ ہاتھا پائی کی تو ان کو ہارٹ اٹیک ہوا، کچھ بعد والدہ محترمہ کو دوسرا ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ اﷲ کو پیاری ہو گئیں اور شیخ اعجاز احمد نے اپنی والدہ کو بھی پارٹی کی خاطر گنوا دیا۔ اگرچہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیخ اعجاز احمد کے حلقہ احباب میں شامل’ مسلم لیگی کارکنوں کی طرف سے ڈپٹی کمشنر کے اس رویہ پر اظہار مذمت ضرور کیا جا رہا ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوئی اس معاملہ پر احتجاج کرے۔ بات شیخ اعجاز احمد کی ذات کی نہیں بلکہ ان کے پاس موجود عہدے کی عزت وتوقیر کی ہے۔ مسلم لیگی کارکن اپنی قیادت سے سخت نالاں ہیں اور سوال کر رہے ہیں کہ اگر سٹی صدر کی یہ عزت افزائی ہو گی تو عام کارکنوں کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ بلاشبہ! شیخ اعجاز احمد ایڈووکیٹ اپنے دوست احباب اور مسلم لیگی کارکنوں کے لیے مضبوط اور توانا آواز ہیں جو ہر مشکل’ مصیبت کے موقع پر ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ہر کسی کی خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں۔ مسلم لیگی کارکنوں کا یہ مطالبہ ہے کہ ان کی جماعت کے قائد میاں محمد نواز شریف اس ناخوشگوار واقعہ کا سخت نوٹس لیں لیکن یہاں پر تو حالات کچھ اور ہی نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے اس ناخوشگوار واقعہ کے بعد ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن (ر) ندیم ناصر کو ”کچھ کہنے” کی بجائے انہیں 19 ویں گریڈ میں ترقی دیتے ہوئے بطور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد اپنی خدمات جاری رکھنے کا سرکاری مراسلہ بھی جاری کر دیا ہے اور مسلم لیگ (ن) کے بعض کارکنان پارٹی کے سٹی صدر شیخ اعجاز احمد کے ساتھ ہونیوالے ناروا سلوک پر سراپا احتجاج بننے کی بجائے ڈپٹی کمشنر کو 19ویں گریڈ پر ملنے والی ترقی پر مبارکباد دے رہے ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل نامناسب ہے، DCC میٹنگ میں موجودہ وسابق 22 ارکان شامل تھے، وہ پارٹی کے سٹی صدر شیخ اعجاز احمد کیساتھ ہونیوالے ناروا سلوک پر طوفا ن برپا کر دیتے لیکن ایسا نہ ہو سکا، انہیں چاہیے کہ وہ اس ناخوشگوار واقعہ کیخلاف اپنے ردعمل کا اظہار کریں جبکہ فیصل آباد کے تاجروں اور لیگی کارکنو ں کو بھی ”خاموش تماشائی” بننے کی بجائے شدید احتجاج کرنا چاہیے۔ امید ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرینگے اور یقینی طور پر ایسا کرنا کارکنوں کے لیے باعث عزت وتکریم اور پارٹی پرچم کی سربلندی کا باعث بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں