کابینہ نے بڑے سپیکٹرم آکشن کے فریم ورک کی منظوری دیدی

اسلام آباد (بیورو چیف)وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار مسائل کا شکار ہے اور اس کی بنیادی وجہ دستیاب سپیکٹرم کی شدید کمی ہے، وفاقی کابینہ نے بڑے سپیکٹرم آکشن کے فریم ورک کی منظوری دے دی ہے،فائیو جی سروسز چھ ماہ کے اندر اسلام آباد سمیت صوبائی دارالحکومتوں میں شروع کر دی جائیں گی، قابل اعتماد انٹرنیٹ کے بغیر آج کی دنیا میں ترقی ممکن نہیں، پاکستان اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسنگ معیشت ہے جبکہ آئی ٹی سیکٹر سالانہ تقریباً 20 سے 21 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اس وقت تقریباً 24 کروڑ آبادی کے لیے موبائل انٹرنیٹ کا پورا نیٹ ورک صرف 274 میگا ہرٹز سپیکٹرم پر چلا رہا ہے جو ایسا ہی ہے جیسے چار لین والی ٹریفک کو دو لین کی سڑک پر چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہی بنیادی وجہ ہے جس کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار سست ہے، خطے میں پاکستان کے پاس سپیکٹرم کی دستیابی کی سطح انتہائی کم ہے۔ تقابلی جائزہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم آبادی کے باوجود بنگلہ دیش کے پاس تقریباً 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم دستیاب ہے۔شزہ فاطمہ نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے بڑے سپیکٹرم آکشن کے فریم ورک کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ٹیلی کام آپریٹرز کو تقریباً 600 میگا ہرٹز اضافی سپیکٹرم فراہم کیا جائے گا، یہ نیلامی آئندہ چند ہفتوں میں متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نیلامی میں سات سپیکٹرم بینڈز شامل ہوں گے جن میں سے پانچ پہلی بار پاکستان میں نیلام کیے جا رہے ہیں۔ اس توسیع کے نتیجے میں نیلامی کے تین سے چار ماہ کے اندر تھری جی اور فور جی سروسز میں نمایاں بہتری آئے گی جبکہ فائیو جی سروسز چھ ماہ کے اندر اسلام آباد سمیت صوبائی دارالحکومتوں میں شروع کر دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد صرف تیز انٹرنیٹ نہیں بلکہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کنیکٹوٹی ہے، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)بین الاقوامی کنسلٹنٹس کے ساتھ مل کر بہترین عالمی طریقہ کار اپنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ انٹرنیٹ کنیکٹوٹی اب کوئی عیش و عشرت نہیں بلکہ معاشی ترقی، قومی سلامتی، تعلیم، صحت، زراعت اور برآمدات کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابل اعتماد انٹرنیٹ کے بغیر آج کی دنیا میں ترقی ممکن نہیں، پاکستان اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسنگ معیشت ہے جبکہ آئی ٹی سیکٹر سالانہ تقریباً 20 سے 21 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم اور وزارت خزانہ کو ٹیلی کام سیکٹر میں اصلاحات کی حمایت کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی اداروں اور متعدد صوبوں میں رائٹ آف وے چارجز کے خاتمے سے لاگت کم ہوئی اور فائبر انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کو فروغ ملا۔وفاقی وزیر نے یہ بھی اعلان کیا کہ کابینہ نے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس سے نئے موبائل برانڈز کیلئے بغیر اپنا نیٹ ورک بنائے پاکستانی مارکیٹ میں داخلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت ایم وی این اوز موجودہ آپریٹرز سے بڑی مقدار میں نیٹ ورک صلاحیت خرید کر اپنی برانڈنگ کے تحت سروسز فراہم کریں گے جس سے مسابقت بڑھے گی اور صارفین کے لیے قیمتوں میں ممکنہ کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ اس سے صارفین کو زیادہ انتخاب، بہتر پیکجز اور بہتر افورڈیبلٹی ملے گی، عالمی تجربات کے مطابق ایم وی این اوز مارکیٹ کی صحت بہتر بناتے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرتے ہیں۔ایک اور بڑی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے شزہ فاطمہ نے کہا کہ پی ٹی اے نے ضلعی سطح کے آئی ایس پی لائسنسز کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت مقامی کیبل آپریٹرز اور چھوٹی کمپنیاں دیہات، قصبوں اور کم سہولت یافتہ علاقوں میں قانونی طور پر انٹرنیٹ سروس فراہم کر سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس سے فائبرا?ئزیشن کو جمہوری بنایا جائے گا اور بڑے شہروں سے باہر قانونی انٹرنیٹ رسائی میں توسیع ہوگی۔وفاقی وزیر نے پاکستان کی بین الاقوامی انٹرنیٹ کنیکٹوٹی میں بہتری پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ پاکستان دنیا کے طویل ترین سب میرین کیبل سسٹم (ایم ایم ڈبلیو6) کا حصہ بن چکا ہے جبکہ مزید دو زیر سمندر کیبلز رواں سال فعال ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے محدود روٹس پر انحصار کم ہوگا اور بین الاقوامی کیبل کٹس کے باعث ہونے والی رکاوٹیں کم ہوں گی جیسا کہ حالیہ دنوں بحیرہ احمر کے خطے میں رپورٹ ہوئیں۔انٹرنیٹ پابندیوں سے متعلق سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ کسی بھی عارضی بندش کا فیصلہ وزارت آئی ٹی کی پالیسی کے تحت نہیں بلکہ وزارت داخلہ کی سکیورٹی ہدایات پر کیا جاتا ہے۔شزہ فاطمہ نے اعتماد کا اظہار کیا کہ سپیکٹرم نیلامی کے بعد صارفین تین سے چار ماہ کے اندر انٹرنیٹ کے معیار میں واضح بہتری محسوس کریں گے۔ انہوں نے ان اصلاحات کو پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے انقلابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسیاں صرف اگلے ایک سال کے لیے نہیں بلکہ آنے والی دہائیوں کے لیے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں