کراچی جیسے شہر میں تھیٹر کو فروغ دینے کیلئے کمیونٹی سنٹر بنائے جائیں’ انور مقصود

لاہور (شوبز نیوز) پاکستان میں طنز و مزاح کا ذکر ہو اور انور مقصود کا نام نہ آئے، ایسا ممکن نہیں۔ ففٹی ففٹی، شوشا، آنگن ٹیڑھا، ہاف پلیٹ اور لوز ٹاک جیسے پروگراموں کے ذریعے انھوں نے کئی دہائیوں تک پاکستانی معاشرے، سیاست اور روزمرہ زندگی کو طنز و مزاح کا موضوع بنایا۔لیکن اس وقت انور مقصود ٹی وی کے لیے کچھ لکھ رہے ہیں نہ ہی تھیٹر پر ان کا کوئی ڈرامہ ہو رہا ہے لیکن اس کے باوجود پندرہ سال قبل ختم ہوجانے والے ان کے پروگرام لوز ٹاک کی کلپس نے انھیں موجودہ دور میں بھی اِن رکھا ہوا ہے۔آئے دن لوز ٹاک کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہیں، جس کی انور مقصود کے مطابق سب سے بڑی وجہ حالات کا نہ بدلنا ہے۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ انڈیا سے ان کے دوست آج بھی فون کر کے پوچھتے ہیں کہ یہ معین کی ڈبنگ کون کر رہا ہے؟ جب انھیں پتہ چلتا ہے کہ یہ کلپ پندرہ سال پرانی ہے تو وہ کافی حیران ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کئی بار لوگ حالیہ واقعات کو ان کے پرانے سکرپٹس سے جوڑتے ہیں۔دو ہفتے پہلے اسلام آباد میں جو ہوا، لوگ کہتے ہیں آپ نے یہ چودہ پندرہ سال پہلے کیسے لکھ دیا؟ میں کہتا ہوں یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ حالات بدلتے نہیں۔ٹی وی کے لیے سٹوڈیو ڈھائی، سٹوڈیو پونے تین اور ششوٹائم جیسے یادگار پروگرام لکھنے والے انور مقصود سے جب ٹی وی اور تھیٹر سے دوری کی وجہ دریافت کی گئی تو انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ اکیلے میں بتاسکتا ہوں، سامنے نہیں۔موجودہ ٹی وی کامیڈی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ دوسروں پر تنقید نہیں کرتے، اگر لوگ اسے دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں، تو یہ اچھی بات ہے۔ماضی کے ذکر پر انور مقصود نے ایک جملے میں پورا منظرنامہ بیان کر دیا۔ ان کے بقول پاکستان کا صرف ماضی ہے، نہ حال ہے، نہ مستقبل، ہم تو ماضی میں جی رہے ہیں۔انور مقصود نے اپنے کرئیر کے آغاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھیں سفارش پر بینک میں نوکری تو مل گئی لیکن ان کا اصل شوق مصوری تھا۔میری پہلی پینٹنگ ایگزیبیشن 1958 میں ہوئی تھی، جب کراچی دارالحکومت تھا۔ آج بھی میرے گھر کا خرچہ بڑی حد تک میری پینٹنگز سے ہی چلتا ہے۔شوبز میں اپنی اتفاقیہ آمد کا ذمہ دار انھوں نے معروف براڈکاسٹر ضیا محی الدین کو قرار دیا، جن کے ساتھ وہ برج کھیلا کرتے تھے۔انھوں نے مجھ سے کہا کہ برج کی میز پر تم جو باتیں کرتے ہو، وہی میرا سکرپٹ ہے، تم پروگرام لکھو۔بعد میں ارشد محمود اور شعیب منصور ان کے پاس ففٹی ففٹی کا سکرپٹ لکھوانے آئے۔ انور مقصود نے انکشاف کیا کہ کامیاب شو کی ابتدائی 18 اقساط انھوں نے لکھیں، مگر اہمیت نہ ملنے پر وہ پروگرام سے الگ ہوگئے۔ففٹی ففٹی کی پوری ٹیم کو صدرجنرل ضیاالحق نے ایوارڈ لینے اسلام آباد بلایا مگر مجھے نہیں بلایا گیا، جب میں نے اس کی وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ مزاحیہ پروگرام میں پرفارمنس ہوتی ہے، سکرپٹ کی جگہ نہیں۔ جس کے بعد میں نے شوشا لکھا جس میں طلعت حسین، شکیل، قاضی واجد اور سلیم ناصر جیسے سنجیدہ اداکاروں نے کامیڈی کی۔ضیا محی الدین شو کے ذریعے شوبز میں انڈسٹری میں آنے والے انور مقصود نے اس سے بھی پہلے بطور اداکار بھی قسمت آزمائی تھی لیکن سکرپٹ رائٹنگ اور ہوسٹنگ کی وجہ سے وہ اس سے دور ہوگئے۔ اس کے باوجود انھوں نے ففٹی ففٹی کے خاکوں کے علاوہ بھی ستارہ اور مہرالنسا، فنونی لطیفے، نثری گانے اور بتیس مارچ سمیت کئی ڈراموں میں اداکاری کی۔اداکاری پر ہوسٹنگ اور رائٹنگ کو فوقیت دینے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لکھنے والے کو اداکاری نہیں کرنی چاہیے۔چند ڈراموں اور پلے میں کام کیا، مگر اب مزہ خاموشی میں آتا ہے۔ جتنا لطف خاموشی میں ہے، بات کرنے میں نہیں۔انور مقصود نے جہاں ضیا الحق اور پرویز مشرف کے دور میں سیاسی طنز لکھا، وہیں جمہوری ادوار میں بھی ان کا قلم نہیں رکا، البتہ ان کے مطابق سب سے مشکل دور جمہوریت کا ہوتا ہے۔ لوز ٹاک دوبارہ شروع نہ کرنے کی وجہ پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ اس کرسی پر کوئی اور بیٹھتا ہوا نظر ہی نہیں آیا۔انور مقصود نے ٹی وی کے ساتھ ساتھ تھیٹر کے لیے بھی درجن بھر سے زائد ڈرامے لکھے، لیکن اس وقت جو پاکستانی تھیٹر کی حالت ہے اس پر وہ افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔میں کئی مرتبہ حکومت سے کہہ چکا ہوں کہ کراچی جیسے شہر میں تھیٹر کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ کمیونٹی سینٹر بنائیں تاکہ لوگ اپنے علاقوں میں تھیٹر دیکھ سکیں، شہر میں ٹیلنٹ بہت ہے، لیکن اس کو دیکھنے کی جگہ نہیں۔اپنے ڈرامے ساڑھے چودہ اگست کو اسلام آباد میں روکے جانے پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کچھ باتیں متعلقہ اداروں کو پسند نہیں آئیں، اس لیے ڈرامہ عارضی طور پر روک دیا گیا۔انھوں نے ایک اور ڈرامے سیاچن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دس سال کے بعدجب ڈرامے کو دوبارہ سٹیج پر چلانے کی اجات ملی، تو شرط عائد کی گئی کہ اس میں کوئی لفظ نہیں بدلا جائے گا۔ اپنے کھیلوں کے ذریعے لسانی مزاح کو فروغ دینے پر انور مقصود کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو ان کا مزاح پسند نہیں آتا، صرف وہی لوگ ایسے مزاح پر تنقید کرتے ہیں، جس کا وہ کبھی جواب نہیں دیتے۔جو لوگ یوٹیوب پر میرے خلاف بولتے ہیں، اکثر وہ اپنے ویوز بڑھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ جواب دینے کے لیے مجھے بہت نیچے جانا پڑے گا۔کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں پاکستان نیوی کے حوالے سے انھوں نے ایک جملہ ادا کیا جس پر کافی ہنگامہ ہوا اور انھیں معافی مانگنا پڑی۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تو مذاق کررہے تھے، انہیں اندازہ نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ جائے گی۔نیوی کے کئی سربراہ میرے ساتھ برسوں برج کھیلتے رہے ہیں، لیکن حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ چھوٹی سی بات بھی بہت بڑی لگتی ہے۔پاکستان میں مزاح کرنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہونے کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ مزاح برداشت کرنے کے لیے تعلیم ضروری ہے۔ اگر آپ پڑھے لکھے ہیں تو درگزر کرتے ہیں، ورنہ غصہ کرتے ہیں۔آزادیِ اظہار کے بارے میں انور مقصود کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا نے حالات بدل دیے ہیں۔پہلے گیجٹس نہیں تھے، سوشل میڈیا نہیں تھا، اب ہر کسی کے ہاتھ میں ایک جادو کی پٹاری ہے۔ جن کے پاس پلیٹ فارم ہے وہ بول رہے ہیں۔ان کے مطابق آج کے دور میں خاموشی خود ایک پیغام بن چکی ہے۔اب خاموشی ہی سب سے اچھی آزادیِ رائے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں