کمزور انرجی سیکٹر،محدود ٹیکس نیٹ معیشت کیلئے بڑے چیلنجز قرار

اسلام آباد (بیوروچیف) آئی ایم ایف نے پاکستان میں کمزور انرجی سیکٹر، ناقص ادارہ جاتی اصلاحات، کمزور گورننس، کاروبار کے لیے غیر سازگار ماحول، کم برآمدات اور محدود ٹیکس نیٹ کو معیشت کے بڑے چیلنجز قرار دے دیا۔ایس ڈی پی آئی کے زیر اہتمام سیشن سے خطاب میں عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، سیلاب اور فضائی آلودگی کے باعث پاکستان کو2050 ئتک جی ڈی پی کا 20فیصد نقصان ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ2022کے سیلاب نے پاکستان کو 30ارب ڈالر جبکہ حالیہ سیلاب نے 2.9ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، پاکستان میں صحت، خوراک، تعلیم، صاف پانی اور ماحول سے متعلق مسائل سنگین صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کنٹری فریم ورک کے تحت پاکستان کو 20ارب ڈالر دے گا تاہم اس کیلئے پاکستان کو موسمیاتی موافقت اور اصلاحات پر عملدرآمد کرنا ہوگا، آبادی کی تیز رفتار شرح اور کم غذائیت کے باعث بچوں اور نوجوانوں کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو مستقبل میں معیشت کیلئے بوجھ بن سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں