لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے گاڑیوں کے رجسٹریشن اور ملکیت کے نظام کو آسان، شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے موٹر وہیکل رولز 1969میں اہم ترامیم کی منظوری دیدی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی سربرا ہی میں کیا گیا، جس کا مقصد نمبر پلیٹس، اونرشپ اور رجسٹریشن کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔رجسٹریشن مارک (نمبر پلیٹ) اب گاڑی کے بجائے براہِ راست مالک کی شناخت سے منسلک ہوگا۔نمبر پلیٹ کا ڈیٹا گاڑی کے اصل مالک کے ریکارڈ سے جڑا ہوگا، جس سے جعلی خرید و فروخت کا سدباب ممکن ہوگا۔گاڑیوں کی رجسٹریشن کا ڈیٹا نادرا کے نظام سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ ہر گاڑی اور اس کے مالک کا مکمل ریکارڈ ایک ہی پلیٹ فارم پر دستیاب ہو۔قانون نافذ کرنے والے ادارے (پولیس، ایکسائز، ٹریفک پولیس وغیرہ) گاڑی کی شناخت اور ملکیت کی جانچ فوری اور درست طریقے سے کر سکیں گے۔اس کے علاوہ گاڑیوں کی خرید و فروخت میں جعلسازی اور فراڈ کی روک تھام ممکن ہوگی۔اونرشپ ٹرانسفر کا عمل تیز، محفوظ اور کاغذی کارروائی سے آزاد ہوگا۔گاڑی چوری یا کسی بھی جرائم میں استعمال کی صورت میں فوری ٹریکنگ ممکن ہو گی اور ڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم سے شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے سے نجات ملے گی۔




