گوجرہ کی بڑھتی آبادی کیلئے ریلوے پھاٹک کم پڑ گیا،ٹریفک جام رہنا معمول

گوجرہ (نامہ نگار) ریلوے پھاٹک شہریوں کے لیے وبال بن کر رہ گیا۔ گھنٹوں ٹریفک جام ہونے سے موٹر سائیکل، رکشاؤں، کاروں، ٹرکو ں، بسوں اور گدھا ریڑھیوں کی لمبی قطاریں لگ جانے سے پیدل گزرنا بھی محال ہو گیا۔ انڈر پا س چھوٹی ٹرانسپورٹ کے لیے بھی ناکافی لگنے لگا۔ 1900ء میں شورکوٹ، لائلپور (فیصل آباد) ریلوے سیکشن کی تعمیر کے لیے گوجرہ ریلوے اسٹیشن سے فیصل آباد کی طرف تقریباً ڈیڑھ سو میٹر فاصلے پر بنایا جانے والا پھاٹک بڑھتی آبادی اور ٹریفک کے لیے کم پڑنے لگا۔ گزشتہ ساڑھے چار دہائیوں میں سمندری روڈ، ٹوبہ ٹیک سنگھ روڈ، ڈجکوٹ روڈ اور مونگی بنگلہ روڈ زیادہ فعال ہونے، 1978ء میں لاری اڈہ ریلوے پھاٹک کے قریب منتقل ہو نے کے بعد ٹریفک کے دباؤ میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا۔ 2004ء میں انڈر پاس فعال ہونے کے باوجود ریل گاڑیوں کی آمد و روانگی کے وقت پھاٹک بند ہونے کے بعد دوبارہ کھلنے پر گھنٹوں ٹریفک پھنسی رہتی ہے۔ ٹریفک اہلکار بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ حالیہ شدید سیلاب کے باعث عبد الحکیم کے قریب ریلوے پل بہ جانے کے باعث گزشتہ تقریباً 25 روز سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہونے کے سبب ریلوے پھاٹک کسی وقت بند نہیں ہوتا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں