کیلیفورنیا (مانیٹرنگ ڈیسک) گوگل نے میٹا (فیس بک کی پیرنٹ کمپنی) کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کر لیا ہے، جس کی مالیت 10ارب ڈالر سے زیادہ اور مدت 6سال ہے۔ یہ معلومات ان افراد نے دی ہیں جو معاملے سے واقف ہیں تاہم انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی ہے کیونکہ شرائط خفیہ ہیں۔میٹا اب تک زیادہ تر ایمیزون ویب سروسز (AWS) پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم وہ مائیکروسافٹ ایژور بھی استعمال کرتا ہے۔ معاہدہ بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر سے متعلق ہے۔گوگل کا مقصد یہ ہے کہ وہ بڑے کلاڈ معاہدے کرکے اپنے بڑے حریفوں ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرے۔سال 2025 کی دوسری سہ ماہی میں گوگل کلاڈ یونٹ (جس میں پروڈکٹیویٹی سافٹ ویئر سبسکرپشنز بھی شامل ہیں) نے 13.6ارب ڈالر ریونیو اور 2.83ارب ڈالر آپریٹنگ انکم حاصل کی۔ یہ 32فیصد کی شاندار ریونیو گروتھ تھی، جو کمپنی کی مجموعی ترقی (13.8فیصد) سے کہیں زیادہ ہے۔اس سے قبل 2025کے اوائل میں گوگل نے اوپن اے آئی کا کلاڈ بزنس بھی جیتا تھا، جو پہلے زیادہ تر مائیکروسافٹ ایژور پر انحصار کرتا تھا۔میٹا نے اپنی آمدنی کی رپورٹ میں کہا کہ 2025میں اس کے اخراجات 114ارب ڈالر سے 118ارب ڈالر کے درمیان ہوں گے۔کمپنی اپنے Llamaماڈلز کو بڑھانے اور اپنی تمام ایپس و سروسز میں مصنوعی ذہانت شامل کرنے کے لیے بھاری سرمایہ لگا رہی ہے۔گوگل کے ساتھ یہ معاہدہ اسی منصوبے کا حصہ ہے تاکہ میٹا کو مطلوبہ کلاڈ انفراسٹرکچر میسر آ سکے۔گوگل اور میٹا اگرچہ آن لائن اشتہارات کے میدان میں روایتی حریف ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت اور کلاڈ کمپیوٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے انہیں ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔میٹا کے پاس اپنے ڈیٹا سینٹرز بھی ہیں اور وہ پہلے سے ہی ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے ساتھ کلاڈ سروسز کے معاہدے کر چکا ہے۔اس خبر پر گوگل نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔گوگل اور میٹا کے درمیان 10ارب ڈالر سے زائد کا یہ 6سالہ معاہدہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی پیشرفت ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف گوگل کی کلاڈ سروسز کو نئی طاقت دے گا بلکہ میٹا کے بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کو بھی توانائی فراہم کرے گا۔




