آئی ایم ایف سے یہ آخری پروگرام ہوگا’وزیر خزانہ

اسلام آباد(بیوروچیف)وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ کے بعد کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے ‘آئی ایم ایف سے یہ آخری پروگرام ہوگا،عالمی ایجنسیوں سے بی درجہ بندی کی توقع ہے،رواں مالی سال کے آخر تک پانڈا بانڈ کا ابتدائی اجرا متوقع ہے۔ نکی ایشیا اخبار سے انٹرویومیں وزیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان چین کی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے تیار ہے ۔پاکستان اپنے یوان بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے اور ہانگ کانگ میں کارپوریٹ اسٹاک لسٹنگز کی حوصلہ افزائی کیلئے تیار ہے ۔رواں مالی سال کے آخر تک پانڈا بانڈ کا ابتدائی اجرا متوقع ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا کہ پاکستان کی آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ کے بعد کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری آئی ہے ۔وزیر خزانہ نے عالمی ایجنسیوں سے”بی”کی درجہ بندی کی توقع ظاہر کی اورکہا کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری آئی ہے۔وزیر خزانہ نے ہانگ کانگ میں پاکستانیـچینی مشترکہ منصوبے کی لسٹنگ کی توقع کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانیـچینی مشترکہ منصوبے سروس لانگ مارچ کی ہانگ کانگ میں لسٹنگ متوقع ہے۔ وزیر خزانہ نے پاکستانی کمپنیوں کے لیے مزید لسٹنگز کے امکانات پر زور دیا۔وزیر خزانہ نے چینـپاکستان اقتصادی راہداری کی اہمیت پر زور دیا اورکہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے چینـپاکستان اقتصادی راہداری ایک اہم قدم ہے، جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔وزیر خزانہ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو اہم قرار دیا اورکہاکہ پاکستان میں چینی شہریوں کے لیے سیکیورٹی اقدامات جاری ہیں ۔پاکستانی حکومت چینی شہریوں سمیت تمام غیر ملکیوں کی سیکیورٹی کو اعلیٰ سطح پر اہمیت دیتی ہے۔زمینی صورتحال میڈیا سے کہیں بہتر ہے۔پاکستان میں اقتصادی اصلاحات سے مہنگائی میں کمی آئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ہے، جو مئی 2023 میں 38% تھی اور اس ماہ 3% تک آ گئی ہے’وزیر خزانہ نے اقتصادی اصلاحات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے 25ویں پروگرام کے بعد اپنے ترقی کے ماڈل پر توجہ مرکوز کی ہے ۔وزیر اے خزانہ نے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق اصلاحات کی امید ظاہر کی ہے اورکہا کہ یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔پاکستان اپنے برآمدی نمو کے ماڈل کو مستحکم کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپس جانے کے لیے کوشاں ہے۔#/s#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں