سول ہسپتال میں سکیورٹی گارڈز نے ”ات ”مچا دی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) الائیڈ ٹو ڈی ایچ کیو ہسپتال میں درجہ چہارم کے ملازمین اور سکیورٹی گارڈز نے ات مچا دی، مریضوں اور ان کے لواحقین سے وارڈز میں داخلہ فیس مقرر کر رکھی ہے’ اگر کوئی نذرانہ نہ دے تو مریضوں کے لواحقین کو گھنٹوں انتظار کے باوجود وارڈز میں داخل ہونے نہیں دیا جا رہا، لڑائی جھگڑے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں’ ہسپتال انتظامیہ نے مبینہ طور پر پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے سکیورٹی کے نام پر پرائیویٹ کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے اور سکیورٹی گارڈز کو تمام وارڈ کے داخلی دروازوں پر تعینات کر رکھا ہے جو کہ ہسپتال میں آنے والے مریضوں اور ان کے لواحقین کو نذرانہ دیئے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے اگر کوئی شکایات کرے تو اس کا ریٹ ڈبل کر دیا جاتا ہے اور مریض کے پاس دوسرے آدمی کو بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتے اور مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کرتے ہیں۔ سکیورٹی گارڈز کی ان حرکات کی وجہ سے لواحقین نذرانے دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ڈی ایچ کیو کی گائنی وارڈ’ بچہ وارڈ میں سکیورٹی گارڈز مبینہ طور پر رشوت لیکر ڈیوٹی لگواتے ہیں۔ سکیورٹی گارڈز کا کہنا ہے کہ مذکوہ وارڈزسے جمع ہونیوالے نذرانوں میں ہسپتال کے بعض آفیسران اور عملہ کو بھی حصہ دیا جاتا ہے اور ہسپتال انتظامیہ اور سکیورٹی گارڈز کا سپروائزر ان کی ڈیوٹیاں تبدیل نہیں کرتے۔ اس حوالے سے ہسپتال انتظامیہ نے بھی پراسرار طور پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور سکیورٹی گارڈز کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ ہسپتال میں داخل مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی بیماری سے تنگ آ کر مہنگا علاج کروانے کی بجائے سرکاری ہسپتالوں کا رُخ کرتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات سے زیادہ خرچہ سکیورٹی گارڈز کو دینا پڑتا ہے۔ مریضوں کے لواحقین نے ایم ایس الائیڈ ٹو ڈاکٹر ظفر اقبال اور دیگر انتظامی افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ سکیورٹی پر مامور عملہ کو نتھ ڈالی جائے اور لوٹ مار کرنیوالوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں