پیکا ترمیمی بل2025ء کیخلاف صحافیوں کا احتجاج

اسلام آباد(بیوروچیف)پیکا ترمیمی بل 2025کے خلاف صحافی برادری دو روز سے سراپا احتجاج ہے ، صحافیوں نے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے بل کی منظوری دئیے جانے پرنیشنل پریس کلب میں شدید احتجاج کیااور پیکا ترمیمی بل کو ایک بار پھر مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اپنی جدوجہد مزید تیز کرنے کا اعلان کیا، صحافیوں نے پیکا ایکٹ نا منظور کے نعرے لگائے اورفوری طور پرپیکا ترمیمی بل کے خاتمے کا مطالبہ کیا،نیشنل پریس کلب میں ہونے والے احتجاج کی کال آر آئی یوجے نے اس وقت دی جب صدر ہاوس کی جانب سے پیکا ترمیمی بل پر مہر ثبت کرنے کی ریلیز جاری کی گئی ، اس احتجاجی مظاہرے میں صدر پی ایف یوجے افضل بٹ نے مہمان خصوصی شرکت کی،احتجاجی مظاہرے سے صدر پی ایف یو جے افضل بٹ ،صدر آر آئی یو جے طارق علی ورک ،جنرل سیکرٹری آصف بشیر چوہدری نیشنل پریس کلب کے صدر اظہر جتوئی ، سیکرٹری نیئر علی نے خطاب کیا جبکہ آر آئی یو جے کے نومنتخب عہدے داروں بشیر عثمانی، عمار برلاس، گلزار خان، افشاں قریشی، آسمائ نواز،ثوبیہ مشرف، علی اختر، توصیف عباسی، رانا فرحان اسلم، غفران چشتی، نوابزادہ شاہ علی ، اسد شراوردیگر نے خصوصی طورپر شرکت کی، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے اپنے خطاب میں کہاکہ پیپلز پارٹی کی بنیاد آزادی اظہار رائے جمہوری آزادیوں پر رکھی گی تھی آج صدر زرداری نے پیکا جیسے کالے قانون پر دستخط کیے تو بھٹو شہید بنظیر شہید کی روح بھی تڑپ اٹھی ہوگئی ،صدر زرداری کو ہم نے درخواست کی تھی کہ ہمیں سنا جائے لیکن انہوں نے اس درخواست کو کوئی اہمیت نہیں دی ،یہ رویہ قابل افسوس ہے ،پاکستان پیپلز پارٹی جس نے آج تک ہماری ہر تحریک کا ساتھ دیاہے لیکن آج صدر زرداری نے اس بل پر دستخط کرکے ہمیں شدید رد عمل کیلیے مجبور کردیاہے ، ہم اجلاس کرکے یوم سیاہ مناہیں گے اس روز تمام پریس کلبز میں سیاہ پرچم لہرائے جائینگے ، صحافی سیاہ پٹیاں باندھ کر کوریج کریگے ،اینکر پرسنز سیاہ پٹیاں باندھ کر پروگرام کرینگے تاکہ معلوم ہو کے سارے لوگ اس بل کو مسترد کرتے ہیں صدر آر آئی یو جے طارق علی ورک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیکا جیسا کالا قانون منظور کرکے ایک آمرانہ طرز حکمرانی کا عملی ثبوت دیا ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں سیاسی جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو وہ آزادی اظہار راے کی بات کرتی ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد وہ کمپرومائز ہوجاتی ہیں ہم چاہتے تھے کہ حکومت اس بل کے حوالے سے مشاورت کرے گی لیکن مشاورت نہیں کی گی نیشنل پریس کلب کے صدر اظہر جتوئی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ آج کا دن سیاہ ترین دن ہے کہ صدر نے پیکا جیسے کالے قانون پر دستخط کیے ہیں نیشنل پریس کلب آزادی اظہار رائے کا قلعہ ہے سیکرٹری جزل آر آئی یوجے آصف بشیر چوہدری نے پیکا قانون بارے صحافیوں کو تفصیلی بریفننگ دی اور پیکا کے منفی نکات بارے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ صدر نے عجلت میں پیکا جیسے کالے قانون پر دستخط کرکے آزادی اظہار رائے کا خون کیا ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے ہم خلاف نہیں ہیں لیکن اس کیلیے صحافتی تنظیموں سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی لیکن حکومت نے وعدے کے باوجود ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی تینوں جماعتیں اس کالے قانون کو لانے میں برابر کی شریک ہیں اب یہ جماعتیں کسی سٹیج پر آزادی اظہار راے کی بات نہیں کرسکتی ان کے دوہرے معیارات ہیں۔سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیر علی نے کہا کہ فیک نیوز کی آڑ میں صحافیوں کا گلا گھونٹا جارہا ہے صحافیوں تنظیموں سے مشاورت کے بغیر اس کالے قانون کی منظوری اور پھر حکمرانوں کا من گھڑت دعویٰ کی صحافیوں کی تنظیموں سے مشاورت کی گی ہے یہ فیک نیوز ہے پاکستان پیپلز پارٹی جو انسانی حقوق کی علمبردار تھی جو آزادی اظہار راے کی علمبردار تھی اس نے بھی کمپرومائز کیا ہے، بعدازاں صحافیوں نے پیکا کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پھر منتشر ہوگئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں