پاکستانی لڑکی یونیسیف کی یوتھ ایڈووکیٹ مقرر

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کی انسانی اور ترقیاتی ایجنسی برائے اطفال (یونیسیف) نے ایک 14سالہ پاکستانی لڑکی کو پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کام کرنے اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے اپنا یوتھ ایڈووکیٹ مقرر کیا ہے۔ بلوچستان کے ضلع حب سے تعلق رکھنے والی زنیرہ قیوم اس سے پہلے یونیسیف کے ساتھ کام کر چکی ہیں،ان کی اپنے آبائی ضلع میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کے اثرات پر تحقیق سنہ 2023میں یونیسیف پالیسی ریسرچ چیلنج جیتنے والوں میں شامل تھی۔زنیرہ نے اس کے بعد اپنے آبائی شہر میں نوعمروں کو پالیسی، تحقیق اور نیٹ ورک کی تعمیر کے حوالے سے تربیت دی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی ایجنسی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا کہ مجھے یونیسیف پاکستان میں بچوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے یوتھ ایڈووکیٹ کے طور پر شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ بامعنی تبدیلی بچوں اور نوجوانوں کی آوازوں کو سننے اور اس بات کو یقینی بنانے کے ساتھ شروع ہوتی ہے کہ ہم اپنے مستقبل کی تشکیل کرنے والے فیصلوں میں حصہ لے سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں