ماسٹر صادق…آنکھوں کی راہ گذر…دل کی راحت

جب مجھے بتایا گیا کہ ماسٹر صادق کا تعلق سا ہو والہ سے نہیں کمال پور سے تھا تو مجھے ہر گز حیرت نہیں ہوئی کہ ایسی با کمال شخصیت کمال پور کا ہی نصیب ہوسکتی ہے۔ میری یہ تصحیح نومبر 2024کی ایک سہانی شام برادرم اشتیاق ظفر چیمہ کے ڈیرے پر ہوئی تھی جب میں نے اپنے استاد محترم کو یاد کر کے ان کی قبر کی زیارت کی خواہش ظاہر کی۔ تھوڑی دیر میں ہمارا قافلہ ساہوالہ کی گلیوں کے مکینوں اور بازار کے ان سیر بینوں کے چہروں پر حیرت کی حسرتیں چھوڑتا آگے بڑھنے لگا جو شناسائی کی گرد اڑاتی اشتیاق بھری نظروں سے ہمیں صاحب سلامت کے اشارے کر رہی تھیں مگر ہم کہاں رکنے والے تھے کہ سامنے سے آنے والی سرد ہوائوں کے گرم جوش سندیسے ہمیں کچھ اور ہی جذبے دے کر یوں آگے بڑھا رہے تھے جیسے ہم بادصبا پہ سوار ہوں ۔ جوتی کے اندر پاں کے تلووں کو گدگداتی قبرستان کی گھاس کی پگڈنڈی پر جس ذات شریف کے اشارے نے ایک سرسبز درخت تلے سبزے کی چادر اوڑھے ایک بے نشان قبر کے دامن میں میرے بڑھتے قدموں کو روک دیا وہ چوہدری قمر چیمہ تھے۔ وہی قمر چیمہ جنہوں نے کچھ دیر پہلے میری تصحیح کی تھی اور اب قبر کی نشان دہی کر رہے تھے۔ ان قمر چیمہ کو میں زمانوں سے جس تحریکی شخصیت کے روپ میں جانتا تھا آج اس کا نیا روپ سامنے آیا تھا۔ پہلے وہ مہربان تھی اب محترم ہو گئی یا پھر پہلے محترم تھی اور اب مہربان ہوگئی کہ وہ میرے استاد محترم کے داماد نکلے۔ انہوں نے جس بے نشان قبر کی نشان دہی کی تھی اس میں ایستادہ فیض پہنچانے والی روح ہی میرا نشان منزل تھی۔ زہے نصیب میرا نصیبا 1965 میں جاگا تھا آج تو اسے صرف چین آیا تھا۔ جب زبان وارنگی شوق کے سارے لفظ ادا کر چکی اور میں نے دعا کے لیے اٹھائے ہاتھ چہرے پر پھیرے تو ہاتھ کی لکیریں پگڈنڈیاں بن کر آنکھوں کی راہ گزر میں گردش ایام کو لوٹنے لگیں اور میں یادوں کی بستی میں ٹھہرے لمحوں سے نشاط کشید کرنے لگا۔ یہ سرکلر روڈ اور رنگ پورہ روڈ کی نکر پر واقع ایم سی پرائمری سکول دھار و وال کا کچا صحن ہے جہاں بچوں نے اپنی تختیوں کو دھو کر خشک ہونے کے لیے اسی پختہ ٹینکی کی دیوار کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے جس کے پانی سے دھور ہے تھے اور خود دو پہر کا کھانا کھانے گھروں کو روانہ ہو گئے ہیں۔ اب خالی صحن میں یا گیلی تختیاں رہ گئی ہیں یا ایک فرشتہ سیرت انسان جس نے اپنے خا کی تھیلے سے لاچا نکال کر لباس بدلا اور نماز ظہر کے لیے سجدہ ریز ہو جانے کے بعد اب اس تھیلے سے پوٹلی نکال کر ظہرانے میں مصروف ہے۔ خالی صحن کے سکوت سے پتہ نہیں چلتا کہ کچھ دیر پہلے یہاں چھٹی کی گھنٹی کی آواز سن کر ہمہ ہمی سے کلاسوں سے نکلنے والے بچوں کا کس قدر شور تھا جواب سارے میں پھیل کر گرد و نواح کے گھروں میں جذب ہو چکا ہے۔ ماسٹر صادق کونماز کے بعد ظہرانے کا موقع تو ملامگر قیلولہ ان کی قسمت میں کہاں تختیاں سوکھنے کی دیر تھی کہ گھروں کو گئے بچے لوٹ آئے اور استاد کے حضور زانوئے ادب طے کرتے ہوئے خود کو زیور علم سے آراستہ کرنے لگے۔ یہ منظر جو آپ نے دیکھا ہے ایک دن کا نہیں سال بھر کا معمول ہے۔ لیکن ٹھہرئیے ابھی ایک اور معمول کا تذکرہ باقی ہے۔ کمال پور کی بستی اندھیرے میں خاموشی کی چادر اوڑھے سورہی ہے۔ ایک گھر کا دروازہ کھلتا ہے اور ایک سائیکل باہر آتی ہے۔ سائیکل سوار منہ اندھیرے اپنی منزل کا رخ کرتا ہے۔ ساہوالہ ریلوے اسٹیشن پہنچ کر سائیکل سٹینڈ پر کھڑی کرتا ہے اور خوداڈے کی مسجد میں نماز فجر ادا کر کے ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر پڑے بنچ پر جا بیٹھتا ہے۔ اسے وزیر آباد سے آنے والی ریل گاڑی کا انتظار ہے جو اسے سیالکوٹ ریلوے اسٹیشن پہنچائے گی۔ وہاں سے وہ ڈیڑھ میل پیدل چل کر بچوں کی آمد سے پہلے دھارووال میں ایم سی پرائمری سکول پہنچ جائے گا۔ حسب معمول اس سال بھی اس کے حصے میں پانچویں جماعت آئی ہے۔ نئی کلاس کو پڑھاتے ہوئے ایک ماہ گزر چکا ہے۔ کل اس کا ہر بچہ اپنی خوبی خامی اور لیاقت و استعداد سمیت استاد محترم کی نظروں میں آچکا ہے۔ انہوں نے اپنے تجربے اور پہچان کے باوصف ایک مخصوص تعداد میں بچوں کا انتخاب کر لیا ہے۔ ان بچوں کے بارے ان کے دل کو اطمینان ہے کہ وہ ان نگینوں کو تراش کر ہیرے بنا سکتے ہیں جن کی جگمگاہٹ معاشرے کے اندھیرے دور کرنے کے کام آئے گی۔ لہذا وہ اپنے کام میں لگ گئے ہیں۔ روزانہ چھٹی ہو جانے کے بعد تختیاں دھو کر سکھانے کے لیے رکھ کر جانے والے بچے وہی ہیں جن کا انتخاب ماسٹر صاحب کی دور میں نظروں نے کیا تھا۔ جس وقت چھٹی کے بعد سکول کے سارے استاد اور بچے اپنے دیگر معمولات کو لوٹ چکتے ہیں، ماسٹر صاحب ہر روز شام تک بچوں کو پڑھا رہے ہیں، ان کو بنا رہے ہیں سنوار رہے ہیں۔ اب رات کا دیباچہ شام دھیرے دھیرے اتر رہی ہے۔ بچے خوشی خوشی گھروں کو جا رہے ہیں۔ اور ماسٹر صادق سر خوشی کے عالم میں صبح والے راستے پر قدم مارتے ہوئے سیالکوٹ ریلوے اسٹیشن کو گامزن ہیں۔ بچوں کے گھروں کو آنے پر ماں کا انتظار تو ختم ہوا لیکن ماسٹر صادق کو نارووال سے آنے والی ریل گاڑی کا انتظار ہے، وہ آئے گی تو اس میں بیٹھے گا۔روز پھر علی الصبح اسی معمول پر چل پڑے گی۔ یہ معمول جس غیر معمولی انسان کا تھا اس کا نام ہے ماسٹر صادق جو دامن نچوڑیں تو فرشتے وضو کریں۔سال بھر ماسٹر صاحب نے جن بچوں کو پڑھا کر تیار کیا تھا وہ اپنے استاد کی امیدوں پر پورا اترے ہیں۔ یہ تمام بچے پانچویں جماعت کے وظیفے کے امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں۔ کہانی سنانے والا بچہ ضلع بھر میں اول پوزیشن حاصل کرتا ہے کامیاب طلبہ کے چہرے خوشی سے دمک رہے ہیں نہال ہوتے والدین مٹھائیاں لے کر ماسٹر صاحب کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں مگر سال بھر بلا معاوضہ ٹیوشن پڑھانے والے ماسٹر صادق بچوں کے والدین سے پانی کے ایک گلاس کے بھی روادار نہیں کہ ان کے خوابوں کی تکمیل ہی ان کو سیراب کرنے کے لیے کافی ہے کیونکہ قناعت نے انہیں پایاب کر رکھا ہے۔اگر جذ بے صادق ہوں تو لمحے پلک جھپکنے میں سالوں کا سفر طے کر لیتے ہیں۔ ماسٹر صادق کے شاگرد نے اس دن کمال پور کے قبرستان میں اپنے محبوب استاد کی قبر کے ساتھ لیٹ کر یہ سفر طے کیا اور اٹھ کر بے غرض خدمت کے اسی سفر پر دوبارہ ہولیا جس کا درس اسے بچپن میں ماسٹر صادق نے اپنے عمل سے دیا تھا اب وہ اسے اپنے استاد کوخراج اطاعت سمجھ کر زندگی بھر نبھا تا رہے گا۔ ماسٹر صادق ابدی زندگی کے دائمی سفر کے لیے قبر کے پڑا پر عارضی زندگی کے جس گھر سے پہنچا تھا میں ساتھیوں سمیت سیدھا وہاں پہنچتا ہوں۔میرے سامنے ایک اور نورانی شخصیت بیٹھی ہے جس کے پاس سنانے کو کہانیاں بہت ہیں مگر اس بڑھاپے میں بھی حیا اس کے آڑے آ رہی ہے پھر بھی آمنہ بی بی زوجہ محمد صادق قطرہ قطرہ ہمیں سیراب کرتی جارہی ہیں۔ اولاد کے معاملے میں بھی اللہ نے ماسٹر صادق کا حساب برابر رکھا بیٹے چار اور بیٹیاں بھی چار ہی پائیں۔ ان میں سے دو وفات پاچکی ہیں اور ایک بیٹا سرفراز چیمہ جہاد کشمیر کے دوران مقبوضہ کشمیر میں شہید ہو کر ماں باپ کے لیے توشہ آخرت بن چکا ہے جس کی غائبانہ نماز جنازہ کا منظر اہل علاقہ کو آج تک نہیں بھولا کیونکہ نماز جنازہ پڑھانے کے لیے حزب المجاہدین کے کمانڈر سید صلاح الدین خود گائوں تشریف لائے تھے۔ یوں سعادت کی زندگی گزارنے والے ماسٹر صادق کو اللہ نے شہید کا باپ ہونے کا اعزاز بھی بخشا۔ آمنہ بی بی بتانے لگیں کہ صادق نے زندگی بھر کسی کو گالی نہیں دی تھی اور بعد از ریٹائر منٹ پیراں سالی میں بھی محنت کو شعار بنائے رکھا۔ ایک درد نے انہیں کھیتوں میں سبزیاں اگاتے اگاتے سیالکوٹ سے سروسز ہسپتال لاہور پہنچا دیا جہاں جب پتے کے کینسر کی تشخیص ہوئی تو بیماری اپنی آخری سٹیج پر تھی۔ تھوڑی مدت کی اس علالت کے بعد ماسٹر صادق 78 سال کی عمر میں اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ داستان تو ابھی باقی تھی مگر مجھ میں سنے کا حوصلہ نہ رہا۔ میں غم زدہ دل اور نم آلود آنکھوں کے ساتھ استاد محترم کے گھر سے نکلا تو خواب زمانے گفتگو کے تانے بانے بننے لگے۔ گلی سے گزرتے ہوئے جب سر راہ ساتھیوں نے مسجد محمد صدیق اکبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ماسٹر صادق بڑی مدت اس مسجد کے خزانچی رہے تو دل پھر روشنی سے بھر گیا کہ استاد محترم صادق کے ساتھ امین بھی نکلے۔ خمار شب نے جب انگڑائی لینی شروع کی تو بادبان سفر ایک اور طرف پھر گیا۔ جا تومیں سیالکوٹ کو رہا تھا مگر پہنچ کہیں اور گیا۔یہ مئی کا مہینہ اور سال 2013 ہے۔ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مائونٹ ہولی اوک کالج، سائوتھ ہیڈلے، ماساچوسٹ امریکہ میں موجود ہوں جہاں ہم اپنی پیاری بیٹی امیمہ ایمن کی گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لیے بلائے گئے ہیں۔ اسٹولنگ تقریب شروع ہے۔ طالبات اپنے اپنے استاد کے قدموں میں پھول رکھ کر ممنونیت کا اظہار کرتے ہوئے لفظوں کا خراج پیش کر رہی ہیں۔ حسد کا جنجال پالنے والے معاشرے کا باسی ہونے کے ناطے میں اس ماحول میں خود کو اجنبی محسوس کر رہا ہوں لہذا واپس اپنے ملک پہنچ جاتا ہوں جہاں معاشرے میں علم کو تجارت سمجھنے کا چلن عام ہے۔ مادیت کی اس دوڑ میں جب استاد نے دیکھا کہ وہ پیچھے رہ گیا ہے تو اس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے شروع کر دیئے۔ اقبال نے جس استاد کو آفتاب کہا تھا یوں اس کو گہن لگ گیا۔ اسی لیے اس کی روشنی بے مقصدیت اور بے راہ روی کو بھینٹ چڑھے ہوئے شاگردوں تک نہیں پہنچ رہی۔ تدریس جو کبھی ریاضت ہوا کرتی تھی اب پیشہ بن چکی ہے سچ ہے جو استاد اپنے کام سے اپنے منصب کا تحفظ نہیں کرتا وہ اپنا وقار کھو دیتا ہے اور اس کی قوم اپنا مقام۔ مجھے استاد صادق یاد آ رہے ہیں اور ان کا دیا ہوا سبق بھی کہ دنیا کی امامت اور غلامی کار از علم کی مٹھی میں بند ہے جاہل پیچھے رہ جاتے ہیں اور اہل علم سرداران عالم بن جاتے ہیں۔ علم استاد اور طالب علم کا آپس میں گہرا تعلق ہے علم جنت کے راستوں کا نشان ہے تو استاد نشان منزل علم روشنی ہے تو استاد روشنی کا مینار علم نور ہے تو استاد بقعہ نور، علم آواز ہے تو استاد آواز حق علم باد ہے تو استاد بادبان علم قوت ہے تو استاد قوی اور علم راہ ہے تو استاد رہنما۔ میں اپنے استاد محترم کے لیے دست بہ دعا ہوں۔ ماسٹر صادق کو میرا یہ خراج عقیدت صدائے دل۔
افروز بھی ہوگا اور ادائے دلبری بھی اور شاید تکریم کی مسند کے آگے تقدیس کی شبنم بھی ہو مگر سچ تو یہ ہے کہ استاد کے حضور حرف تمنا کہنے کے لیے میرے پاس الفاظ ہی نہیں بس اتنا کہ استاد محترم
تحریر سے ورنہ میری کیا ہو نہیں سکتا
اک تو ہے کہ لفظوں میں ادا ہو نہیں سکتا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں