ایک یادگار سفر کی داستان…

زمانہ طالب علمی سے شروع ہونیوالا سیر و سیاحت کا شوق ہمیں بار بار پرکشش سیاحتی مقامات پر لے گیا’ جہاں پر بیتے لمحات کو زندگی بھر فراموش نہیں کیا جا سکتا، مملکت خداداد پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں دلفریب سیاحتی مقامات بلکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے بڑی دلچسپی کا باعث ہیں، یہاں کے سر سبز وشاداب علاقے’ پہاڑی چوٹیاں اور خوبصورت وادیاں اپنی منفرد پہچان رکھتی ہیں، پاکستان میں ایسے بے شمار خوبصورت دیدہ زیب مقامات ہیں جنہیں سیاحوں کی جنت کہا جائے تو بیجا نہ ہو گا، ان حسین وادیوں میں قدرت کے دلکش نظارے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں، سیاحتی اعتباور سے شمالی علاقہ جات چترال اور گلگت کے مابین واقع شندور کا علاقہ بھی اپنی الگ پہچان رکھتا ہے جہاں ہر سال شندور میلہ لگتا ہے جس میں لوگ بڑی تعداد میں ذوق وشوق کے ساتھ شریک ہوتے ہیں، شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات پر لوگ موسم گرما کے دوران پہنچتے ہیں، سردیوں کے موسم میں یہاں شدید برفباری ہوتی ہیں اور آمدورفت کے راستے بند ہو جاتے ہیں جس سے سیاحوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہم نے زمانہ طالب علمی میں شندور کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا اور یہاں پر پولو میچ بھی دیکھا تھا، یہاں پر دنیا کا بلند ترین پولو گرائونڈ ہے جسے مقامی لوگو ں نے چاند پر موجود پولو گرائونڈ کا نام دیا ہے، شندور نیشنل پارک سطح سمندر سے 3738 میٹر بلند ہے جس کو دنیا کی چھت بھی کہا جاتا ہے، اس وسیع میدان میں 2کلومیٹر پر پھیلی ہوئی شندور جھیل کو چاروں طرف سے فلک بوس پہاڑوں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے، جولائی کے مہینے میں شندور نیشنل پارک میں بہار اپنے جو بن پر ہوتی ہے اور یہاں پر سرسبز وشاداب میدان میں انواع واقسام کے رنگ برنگے پھول کھلے نظر آتے ہیں اور ان کی خوشبو سے فضاء معطر ہو جاتی ہے، اس جنت ارضی میں کب بادل آ جائیں اور بارش شروع ہو جائے اس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی، طوفانی بارش کب تھم جائے اور ہوا کے دوش پر بادل کب دوسری وادیوں کا رخ کر لیں، اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا، ہم جولائی کے مہینے میں پولو میچ دیکھنے کے لیے شندور کے بلند وبالا مقام میں خیمہ زن ہوئے، فیصل آباد اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں جولائی کا مہینہ گرم ترین ہوتا ہے مگر شندور میں موسم سرد تھا، اوپر سے رات گئے ہونے والی برفباری نے سردی کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا، وہ رات بڑی مشکل اور تکلیف دہ تھی جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، اس طرح یہ سرد ترین رات ہماری زندگی کا یادگار واقعہ بن گئی، اگر وسائل میسر ہوں تو اس علاقے کی سیاحت کر کے قدرت کی رعنائیوں کا نظارہ کرنا چاہیے، سیاحت جہاں آپ کے ذہن پر مثبت اثرات ڈالتی ہے وہیں جسمانی لحاظ سے بھی اس کے نفع بخش پہلو ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ حسین قدرتی مقامات کی سیر آپ کی زندگی کے وہ خوشگوار لمحات ہوتے ہیں جسے آپ کبھی نہیں بھولتے’ شندور میں پولو کا مقابلہ دیکھنے کیلئے ہر سال جولائی میں سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں، جب ہم شندور کی سیاحت کیلئے گئے اس وقت لواری ٹنل نہیں بنا تھا، راستہ انتہائی کٹھن اور دشوار گزار تھا، ہماری کوسٹر پہارڑوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی چترال پہنچ گئی جہاں ہم رات گزارنے کے بعد ہم کیلاش کی خوبصورت وادیوں’ بمبوریت’ رمبور اور بریر دیکھنے چلے گئے، شندور میں دو بڑی جھیلیں بھی ہیں، ایک جھیل ماحوران پال پولو گرائونڈ کے پاس اور دوسری مشہور زمانہ جھیل مس جنالی کے پاس واقع ہے، شندور میں زمانہ قدیم سے پولو کھیلنے کا رواج رہا ہے۔ غذر اور چترال کے مقامی لوگ جب گرمیوں میں اپنے مال مویشی لیکر شندور آتے تو ساتھ کسی کھلے میدان میں پولو بھی کھیلتے تھے۔ رسمی طور پر شندور میں پولو کا آغاز اس وقت ہوا جب گلگت بلتستان کے انگریز پولیٹیکل ایجنٹ (جسے مقامی لوگ کاب صاب کہتے ہیں) نے شندور پر ایک پولو گرائونڈ بنانے کا حکم دیا۔ اور یوں پولوگرائونڈ کی تعمیر کا کام ایک مہینے کے قلیل عرصے میں مکمل ہوا۔ اس پولو گرائونڈ کو مس جنالی کا نام دیا گیا۔ کرنل کاب اس کام سے متاثر ہوئے اور کسی انعام کی پیش کش کی جسے قبول حیات کاکاخیل نے مسترد کر دیا۔ مگر ”کاب صاب” کی ضد کے باعث قبول حیات نے انعام کو اجتماعی مفاد میں لینے کیلئے مطالبہ کیا کہ انگلستان سے ٹھنڈے پانی کی مچھلی ٹرائوٹ کو وافر مقدار میں لاکر دریائے غذر اور متصل جھیلوں میں ڈال دیا جائے۔ یہ مطالبہ پورا ہوا اور اس نسل کی مچھلی نقل مکانی کرکے ضلع غذر کی بیشتر جگہوں تک پہنچ گئی۔ اور یوں سیاحوں کے لئے بھی پولو میچ دیکھنے کیلئے ایک بڑے گرائونڈ کے علاوہ کھانے کیلئے مچھلی کی ایک بہترین نسل بھی پیدا ہوگئی۔ شندورمیلہ دنیا بھرکے سیاحوں کیلئے سیروتفریح کے نئے باب کھول دیتا ہے ، ہزاروں سیاح ہرسال دنیا بھر سے شندور کا رخ کرتے ہیں،اس میلے میں پولومیچ کے علاوہ لوک موسیقی،لوک رقص اورثقافتی کھیلوں کے مقابلوں کا اہتمام بڑے نمایاں انداز میں کیا جاتا ہے،جب شندور میلہ شروع ہوتا ہے تو لوگوں کی بہت بڑی تعداد میلے سے پہلے ہی یہاں پہنچ جاتی ہے اس لئے تمام سیاحوں کومیلے سے دو،تین دن پہلے پہنچ جانا چاہیے کیونکہ بعد میں آنے والے لوگوں کیلئے جگہ کی قلت ہو جاتی ہے،پہلے آنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ قریب کے دریائوں میں ٹرائوٹ ماہی گیری بھی ہوسکتی ہے اس کے علاوہ پہاڑوں پرچڑھنا’ چہل قدمی کرنا، گھڑسواری کرنا،برف سے ڈھکے پہاڑو ں کودیکھنا،الغرض قدرت کا دیا ہوا سب کچھ ہے جس سے آپ میلے سے پہلے پہنچ کر لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ شندور میں ہم نے پولو میچ دیکھا اور سیاحتی مقامات کے خوب نظارے کئے’ فیصل آباد سمیت دیگر علاقوں میں جولائی کا مہینہ سخت گرم ہوتا ہے مگر شندور میں شدید سردی تھی’حالیہ بارشوں سے فیصل آباد ودیگر علاقوں میں جاتی سردی پھر لوٹ آئی، خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں پاراچنار’ مالم جبہ’ دیربالا’ چترال’ لواری ٹنل وغیرہ میں بارش کے ساتھ ساتھ شدید برفباری بھی ہوئی ہے جس نے شندور میں بیتے دنوں کی یادوں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں