گو کیش لیس مہم کا آغاز،ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تیزی سے اضافہ

اسلام آباد (بیوروچیف) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے گو کیش لیس مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، 2025کی دوسری سہ ماہی میں راست لین دین بڑھ کر 6ہزار 400ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق بڑے شہروں میں راست کے ذریعے لین دین تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن دیہی علاقوں میں اکثریت نے اس نظام کو نہیں چلایا۔مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اسٹیٹ بینک نے ہفتہ مالیاتی خواندگی کا آغاز کیا ہے، اس اقدام کا مقصد بینکاری نظام میں 25 کروڑ افراد میں سے وسیع حصے کو مشغول کرنا ہے۔اسٹیٹ بینک پہلے ہی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت عوام تک بینکنگ رسائی بڑھانے کے لیے متعدد اسکیمیں شروع کر چکا ہے۔اسٹیٹ بینک نے 12 معروف مالیاتی اداروں کے تعاون سے اس مہم کا آغاز کیا ہے۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد وینڈرز اور صارفین دونوں کو ڈیجیٹل ادائیگی کے حل کے استعمال اور فوائد سے آگاہ کرنا اور کیش لیس معیشت کی جانب منتقلی کو فروغ دینا ہے۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ نے کہا کہ یہ مہم صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ ڈیجیٹل معیشت کی جانب پاکستان کی منتقلی کو تیز کرنے کے وسیع تر وژن کا حصہ ہے۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے اہم اعداد و شمار کی وضاحت کرتے ہوئے سلیم اللہ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے فلیگ شپ پلیٹ فارم راست نے 2025 کی دوسری سہ ماہی میں 6ہزار 400ارب روپے مالیت کی 79کروڑ 95لاکھ سے زائد ٹرانزیکشنز کو سنبھالا۔انہوں نے کہا کہ موبائل اور انٹرنیٹ بینکنگ لین دین میں حیرت انگیز طور پر 62 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ راست نے اپنے آغاز سے اب تک 89 کروڑ 20 لاکھ سے زائد ٹرانزیکشنز پر کارروائی کی ہے، جن کی مالیت 20 ہزار ارب روپے ہے، مالی سال 24 میں ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔مزید برآں، انہوں نے کہا کہ مالیاتی شمولیت کو بڑھانے اور پاکستان میں ڈیجیٹل اپنانے میں تیزی لانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے وسیع تر ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے یہ تقریب منعقد کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مہم پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے مستقبل کی عکاسی کرتی ہے، جو شمولیت، جدت طرازی اور انضمام کے بارے میں ہے۔اسٹیٹ بینک کا مقصد کیش لیس معیشت ہے، جہاں ڈیجیٹل ادائیگیاں نہ صرف ایک متبادل ہیں، بلکہ مارکیٹ میں چھوٹے دکاندار سے لے کر مال میں بڑے ریٹیل اسٹور تک ہر ایک کے لیے ترجیحی انتخاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقامی مال میں اس طرح کی مہمات کے ذریعے اسٹیٹ بینک لوگوں کو دکھا رہا ہے کہ کیش لیس ہونا آسان، محفوظ اور بااختیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں