پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیس کے زہر اہتمام ملیریا کے عالمی دن کے موقع پر آگاہی واک

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) میڈیسن ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے زیر اہتمام ملیریا کے عالمی دن کے موقع پر ایک اگاہی واک کا انعقاد کیا گیا- واک کی قیادت پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن فیصل آباد کے صدر پروفیسر ڈاکٹر عامر شوکت اور سیکرٹری ڈاکٹر محمد عرفان نے کی- واک میں درجنوں کی تعداد میں ڈاکٹرز نے شرکت کی واک کا مقصد لوگوں میں ملیریا کے متعلق اگاہی پیدا کرنا تھا- وا ک کے اختتام پر ڈاکٹر محمد عرفان نے کہا کہ ملیریا ایک خاص قسم کے پیراسائٹ جس کو پلازموڈیم کہتے ہیں کی وجہ سے ہوتا ہے- یہ پلاز موڈیم صرف مچھر کے ذریعے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے – ملیریا ایک انسان سے دوسرے انسان میں براہ راست منتقل نہیں ہو سکتا اس لیے ملیریا کے شخص کے پاس بیٹھنے سے ملیریا میں مبتلا ہونے کا کوئی امکان نہیں -اس وقت دنیا میں تقریبا 243 ملین افراد ہر سال ملیریا کا شکار ہوتے ہیں ان میں سے تقریبا چھ لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں- اموات کی شرح زیادہ تر پانچ سال سے چھوٹے بچوں, حاملہ خواتین اور ایڈز کے مریضوں میں ہوتی ہے- ورلڈ ملیریا ڈے منانے کا مقصد اس دنیا کو ملیریا سے پاک کرنا ہے اس وقت تقریبا 36 کے قریب ممالک میں ملیریا ختم ہو چکا ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری دنیا سے ملیریا کا خاتمہ کیا جا سکے اس کے لیے ضروری ہے کہ پانی کو کھڑا ہونے سے روکا جائے تاکہ مچھروں کی افزائش نسل نہ ہو سکے- اس کے علاوہ گھروں میں مچھر سے بچا کے لیے نیٹس یا سپرے کیا جائے, کھلے مقامات پر جانے سے پہلے پورے بازوں والی قمیض کا استعمال کیا جائے- اس سال ملیر یا ڈے کا سلوگن”دوبارہ سرمایہ کاری، نئے انداز سے سوچنا، دوبارہ جذبہ جگانا””سرمایہ کاری، تخیل، جذبہ” ہے پروفیسر ڈاکٹر عامر شوکت نے کہا کہ ملیریا کی صورت میں تیز بخار اور جسم میں درد اور جسم کانپنا شروع کر دیتا ہے- ملیریا کا علاج انتہائی سادہ ہے لیکن اس کی تشخیص کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جاے- جتنی جلدی ملیریا کی تشخیص اور علاج شروع ہوگا اتنا ہی اس کی پیچیدیوں سے بچا جا سکتا ہے ورنہ ملیریا جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں