اللہ کے فضل وکرم سے پوری دنیا میں جہاں بھی ہاکی کا ذکرچھڑے توفوراپاکستان کا شہر گوجرہ سامنے آجاتاہے جسے گوجرہ سے تعلق رکھنے والے نامورکھلاڑیوں کی دنیائے ہاکی میں بہتر ین کارکردگی کے صلہ میں” اولمپک ویلج ”کے نام سے نوازاگیاہے ۔اسی طرح ادب کے حوالے سے شاعری کے شعبے میںبھی گوجرہ کسی سے پیچھے نہیں ہے۔گوجرہ کی دھرتی پر1952میں جنم لینے والے محمود اشرف نے ادبی دنیامیںپاکستان ہی نہیںبلکہ پوری دنیامیں گوجرہ کا نام اپنی انقلابی ورومانوی شاعری سے زندہ وجاوید کیاہے۔قارئین کرام سو چ رہے ہوں گے کہ یہ محمود اشرف کون ہے کبھی یہ نام سنانہ پڑھاہے تویہ خلاصہ بھی آج کھول دیتے ہیں۔موجودہ شعراء کرام کی فہرست میں اول ناموں میں شامل ہو نے والا فرزندِگوجرہ میاں محمود عامر ہے پسے ہو ئے طبقات کی آوازبلند کر نے والا،جمہوریت کی بحالی کیلئے قیدوبندکی صعوبتیںجھیلنے ، جلا وطنیاں کاٹنے اور ظلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے میاں محمود عامرکے پانچ شعری مجوعے” چاند سے خالی راتیں”” مقتل””کبھی دیکھنے کو آ” ”جو تم نہیں ہو””کیمپس نامہ”چھپ کر عوام سے داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ان کے جلد آنے والے مجموعوں میں”پیشہ ور قاتلو””پاگل تو نہیں ہو””طشت میں سر”قابل ذکر ہیں۔اردو ادب ہمارا قیمتی سرمایہ ہے اور اچھی شاعری اہل ذوق کے دلوں پر راج کر تی ہے ۔ پاکستان کے نامور شعرا ء میںتحصیل گوجرہ کے میاں محمودعامر کا نام شعرو ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں جنہوںنے ادب کے میدان میںاپنے خوبصورت شاعرانہ تخلیقی سفرمیں خوب نام کمایاہے اوروہ نہایت پختگی کے ساتھ الفاظ کی مالا پرو کر خوبصورت غزل کہنے کا کمال ہنر جانتے ہیں۔ ان کی شاعری خصوصاًنوجوانوں کے دلوں میں دھڑکن کی طرح رقص کر تی ہے”محمود عامر کے کیمپس نامہ”سے نوجوانوں کیلئے کہے گئے چند اشعارقارئین کی نذرکر تے ہیں :
بال کھولے ہو ئے جو سوتی ہو
ہائے کتنی حسینن ہوتی۔۔ ہو
سارا کیمپس بنا دیا۔۔پاگل
اس طرح دل میں پیار بوتی ہو
ان کے مجموعہ کلام” کیمپس نامہ” میں زمانہ طالب علمی کا تذکرہ بہترین شاعری کی صورت زمانہ سے ہٹ کرالگ تھلگ نظرآتاہے۔ ان کی کہی گئی غزلوں میں کھلنڈرے جوان کے جذبات کی خوب ترجمانی اور شاعری میں پیار محبت کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے۔ محمود عامر کہتے ہیں کہ
قدم قدم پر پھول کھلے تھے کیمپس میں
ہم نے بھی کچھ خواب بُنے تھے کیمپس میں
کیسی کیسی غزلیں اترا کرتی تھیں
کیسے کیسے شعر کہے تھے کیمپس میں
جواں ڈھڑکنوں میں انقلاب برپا کر کے اس قدرخوبصورتی سے مصرعوں کوپرویاہے کہ حسین یادوں سے دل کا آنگن مہک اٹھتاہے۔
جب سے آئے گلاب کیمپس میں
آگئے انقلاب کیمپس میں
اٹھتی عمر وں میں آنے والوں کے
ڈھل گئے ہیں شباب کیمپس میں
سرمئی آنچلوں میں چاند پھریں
ہائے کیا لاجواب کیمپس میں
”کیمپس نامہ” محمودعامر کے ماضی کے جھروکوں کی منظرکشی ہے جوادب کے میدان میںاپنی ایک الگ تھلگ شناخت رکھتی ہے ۔اس میں انہوں نے خود کو دنیائے ادب میں معتبرہو نے کابہترین ثبوت دیاہے ۔اپنی انمول یادوں کو خوبصورت انداز میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :
ایک دن چھوڑ آئے ہم عامر
اپنے سارے ہی خواب کیمپس میں
جبکہ انقلابی شاعر ی ان کے خون میں ہر وقت گردش کر تی ہے۔70سالہ میاںمحمود عامرایک کھلنڈرے نوجوان کی طرح شعر کہتے اور محفل لوٹ لیتے ہیںاوراپنے نہایت پختہ لب ولہجہ میں منفرد اندازمیں کلام پیش کر کے دادوصول کرتے ہیں۔ موصوف نے اپنی بھر پور جوانی سے بڑھاتے تک شاعری اورزندگی کو ”چولی دامن” کا ساتھ بنائے رکھا۔راقم الحروف کی میاں محمود عامر پر جب بھی نظر پڑی وہ اپنے ”شاعرانہ تخلیقی سفر” میں سگریٹ سلگائے بڑے” ذوق وشوق ”سے مگن دکھائی دئیے۔ دلفریب انداز میںگلستان ادب میں مہکتے ہو ئے دکھائی دینے والے میاںمحمودعامرعلم وادب کے ہر زاویئے میں اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں۔وہ پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی شاعر ہو نے کا اعزاز بھی حاصل کر چکے ہیںجبکہ بیرون ممالک منعقد ہو نے والی ادبی محافل میں بطور مہمان خصوصی اور صدارت کے اعزازات سے نوازے جاتے ہیں۔ وہ اپنی خوبصورت شاعری سے سننے والوں کی روح کو معطر کرتے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کی ادب کی میدان میںخدمات ناقابل فراموش ہیں۔ان کے اب تک 6شعری مجوعے چھپ کر اہل ذوق کے ہاتھوں تک پہنچ کر داد ِتحسین حاصل کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ میاں محمود عامر ”تم اک گورکھ دھندہ ہو”جسے شہرہ آفاق کلام کے خالق ناز خیالوی مرحوم کے ہاتھوں جوہری کی طرح تراشے ہو ئے گوہر نایاب شاعرہیں ۔گوجرہ سمیت پاکستان کے اہل ادب کے لئے سرمایہ افتخار شاعرمحمود عامراد ب کے فروغ کیلئے مصروف عمل ہیں جو ہم سب کے لئے اعزازہے۔



