منہ کھر بیماری، جسے انگریزی میں “Foot-and-Mouth Disease” (FMD) یا “کھر اور منہ کی بیماری” بھی کہا جاتا ہے، ایک نہایت متعدی اور بعض اوقات مہلک وائرسی بیماری ہے جو خاص طور پر دو چِھد والے جانوروں جیسے گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اور سور وغیرہ کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری کا وائرس “Aphthovirus” (خاندان Picornaviridae) سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے سات مختلف سیروٹائپس (O, A, C, Asia 1, SAT 1, SAT 2, SAT 3) ہیں۔ ایف ایم ڈی وائرس کے انکیوبیشن کی مدت عام طور پر ایک سے بارہ دن کے درمیان ہوتی ہے۔ بیماری کے آغاز میں جانور کو تیز بخار ہوتا ہے جو دو سے چھ دن تک رہتا ہے، اس کے بعد منہ، زبان، تالو، مسوڑھوں، تھنوں اور کھروں کے درمیان چھالے بن جاتے ہیں جو پھٹ کر زخموں میں بدل جاتے ہیں۔ متاثرہ جانور کے منہ سے مسلسل رال ٹپکتی ہے، کھانے پینے میں دشواری پیش آتی ہے اور چلنے میں لنگڑاہٹ ظاہر ہوتی ہے۔ دودھ کی پیداوار میں نمایاں کمی آ جاتی ہے، جو بعض صورتوں میں 80 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ بھیڑ اور بکریوں میں چھالوں کی جگہ منہ میں سرخ دھبے نظر آتے ہیں اور منہ سے رال ٹپکتی ہے۔ بالغ جانور وزن میں کمی اور کمزوری کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ بچھڑوں، میمنوں اور پلے میں شرح اموات زیادہ ہو سکتی ہے۔ بعض متاثرہ جانور بیماری سے صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ جانور وائرس کے غیر علامتی کیریئر بن جاتے ہیں اور بیماری کو پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔
یہ بیماری براہ راست متاثرہ جانور کے رابطے، آلودہ خوراک، پانی، کپڑوں، گاڑیوں اور آلات کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس کے علاوہ جنگلی جانور اور شکاری بھی اس بیماری کے پھیلا میں کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بیماری مویشی پالنے والوں کے لیے ایک بڑا معاشی مسئلہ ہے، کیونکہ اس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں کمی، جانوروں کی اموات اور بین الاقوامی تجارت پر پابندیاں لگ جاتی ہیں، جس سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس بیماری کی وجہ سے ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے اور یہ ڈیری فارمنگ کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔
منہ کھر بیماری کی تشخیص کے لیے عموما لیبارٹری ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جن میں real-time RT-PCR اور ELISA شامل ہیں۔ بیماری کی تصدیق کے بعد فوری اقدامات ضروری ہیں، جیسے متاثرہ جانوروں کو الگ کرنا، قرنطینہ، اور متاثرہ جانوروں کی تلفی۔ اس بیماری کا کوئی مخصوص علاج نہیں، صرف علامات کا علاج کیا جاتا ہے اور ثانوی انفیکشن کو روکا جاتا ہے۔ روک تھام کے لیے سال میں دو بار حفاظتی ویکسینیشن (مارچ-اپریل اور ستمبر-اکتوبر)، متاثرہ جانوروں کو صحت مند جانوروں سے الگ رکھنا، باڑے کی صفائی اور جراثیم کش اقدامات، اور نئے خرید کردہ جانوروں کو مکمل اطمینان کے بعد دوسرے جانوروں میں شامل کرنا ضروری ہے۔ بیماری کی صورت میں فورا قریبی ویٹرنری ہسپتال سے رابطہ کرنا چاہیے۔
ایف ایم ڈی وائرس جینیاتی طور پر بہت زیادہ متغیر ہے، جس کے باعث ویکسینیشن کی تاثیر محدود ہو سکتی ہے اور وقتا فوقتا اس کے جینیاتی میک اپ میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اس وجہ سے جانوروں میں نئی خطرناک نسلیں نمودار ہوتی ہیں، جو مویشیوں کی پیداوار میں شدید نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر جانور بالآخر صحت یاب ہو جاتے ہیں، لیکن بیماری بعض اوقات دل کے پٹھوں کی سوزش (مایوکارڈائٹس) اور موت کا باعث بھی بن سکتی ہے، خاص طور پر نوزائیدہ جانوروں میں[1]۔منہ کھر بیماری کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے اجتماعی کوششیں، ویکسینیشن، سخت نگرانی، تجارتی پابندیاں اور قرنطینہ جیسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔ اس بیماری کی بروقت تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد سے نہ صرف جانوروں کی صحت اور پیداوار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی بڑے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔



