پاکستان، جہاں 64فیصد سے زائد آبادی 30سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، ایک ایسی آبادیاتی قوت کے دہانے پر کھڑا ہے جو یا تو سونے کی کان ثابت ہو سکتی ہے۔ یا ایک سماجی ٹائم بم، پاکستان نوجوانوں کی بے روزگاری محض ایک معاشی مسئلہ نہیں’ بلکہ ایک خاموشی سے بڑھتا ہوا نفسیاتی ہنگامی صورتحال ہے۔ لاکھوں نوجوان جب روزگار یا تعمیری مصروفیت سے محروم رہتے ہیں تو اس کے نتائج صرف غربت یا اقتصادی نقصان تک محدود نہیں رہتے۔ بلکہ یہ جرائم میں اضافے اور سماجی بدامنی کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں۔ یہ حل طلب بحران پاکستانی معاشرے کے بنیادی ڈھانچے کو غیر مستحکم کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان میں نوجوانوں کو ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ جوش وجذبے سے بھرپور’ پرعزم اور حالات کا مقابلہ کرنے والے تاہم گزشتہ کئی دہائیوں میں تعلیم’ طرز حکمرانی اور معاشی منصوبہ بندی میں نظامی مسائل کے باعث یہی طاقت ایک بڑھتی ہوئی تشویش میں تبدیل ہو چکی ہے۔
نفسیاتی نظریات، جیسے کہ ماسلو کی ”ضروریات کی (Maslow’s Hierachy of Needs) درجہ بندی” کے مطابق روزگار صرف مالی استحکام کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ فرد کی عزت نفس، مقصد حیات اور خود کو منوانے کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے۔
پاکستان میں تعلیم سے روزگار تک کا راستہ ٹوٹ چکا ہے۔ ڈگریاں اکثر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں، اور تکنیکی یا پیشہ وارانہ ناکافی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے نوجوانوں کو امتیازی سلوک’ اقرباء پروری اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے مستقل روزگار کے مواقع کو مزید کم کر دیتا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (2023) کے مطابق ملک میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح تقریباً 12.9فیصد ہے، جو قومی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ مزید یہ کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 30فیصد نوجوان ایسے ہیں جو نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ ملازمت میں ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ (NEET) یہ ایک چونکا دینے والا اعداد وشمار ہے جو ملک میں موجود گہرے ساختیاتی مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ نوجوان یا تو ترقی اور جدت کے علمبردار بن سکتے ہیں یا مایوسی اور بدظنی کا شکار ہو کر پیچھے رہ جائیں گے۔ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرنا کافی نہیں، ہمیں نوجوانوں کے لیے نفسیاتی مدد’ ہنرسازی کے پروگرام، کیریئر رہنمائی اور شفاف بھرتی کے نظام بھی فراہم کرنے ہوں گے۔
نوجوانوں کی بے روزگاری کے نفسیاتی اثرات حقیقت ہیں اور فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ ایک معاشرے کے طور پر ہمیں سننا ہو گا، عمل کرنا ہو گا اور اپنے نوجوانوں میں سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے بھی۔
اگر ہم نے اس ”ٹک ٹک کرتے وقت ” کو نظرانداز کیا تو اس کے نتائج اتنے سنگین ہو سکتے ہیں کہ انہیں برداشت کرنا ممکن نہ ہو۔




