مریم نواز۔۔۔ تھانہ کلچر تبدیل کرنے میں ناکام

بلاشبہ! محترمہ مریم نواز شریف نے اپنے دور اقتدار میں اب تک ایک سال تین ماہ اور 12دنوں کے دوران اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کے ناطے صوبے کی ترقی’ کرپشن کے خاتمے بالخصوص خواتین اور طالبات کو معاشرے کا انتہائی فعال رکن بنانے کیلئے جو بھرپور اقدامات اٹھائے وہ قابل تعریف ہیں، پنجاب میں پولیس کلچر کی تبدیلی کے لیے بھی انہوں نے بھرپور کاوشیں کیں اور اس مقصد کے لیے اربوں’ کھربوں روپے کے فنڈز دیئے مگر اس کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف تھانہ کلچر تبدیل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ کر سکیں، ماضی کے لائلپور اور موجودہ فیصل آباد میں بھی تھانہ کلچر بدل نہیں سکا، پنجاب کے اس دوسرے بڑے شہر اور اہم ترین صنعتی وتجارتی مرکز میں پولیس افسران کے دفاتر’ تھانوں اور چوکیوں میں سائلین دھکے کھانے پر مجبور ہیں’ داد رسی کیلئے جانیوالوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تھانوں اور چوکیوں میں رشوت یا سفارش کے بغیر عام آدمی کی بات نہیں سنی جاتی، پولیس کا عملہ شہریوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا اپنا فرض سمجھتا ہے، اس صورتحال میں لوگوں کا شدید مایوسی کا شکار ہونا یقینی بات ہے، حصول انصاف کیلئے شہریوں کو کن کن دشوار گزار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، ستم بالائے ستم یہ کہ شدید اذیت سے گزرنے کے باوجود عام لوگوں کو انصاف نہیں ملتا اور وہ تھک ہار کر خاموشی اختیار کرنے اور اپنی درخواستوں یا درج مقدمات کی پیروی نہ کرنے میں ہی عافیت سمجھنے لگتے ہیں، مملکت خدا داد پاکستان میں لوگوں کو انصاف کے حصول میں شدید مشکلات درپیش ہونا لمحہ فکریہ ہے، مولائے کائنات حضرت علی کرم اﷲ وجہہ الکریم کا ارشاد گرامی ہے کہ برائی’ بے حیائی اور کفر پر مبنی معاشرہ قائم رہ سکتا ہے مگر ناانصافی پر مبنی معاشرے کا وجود باقی نہیں رہتا، اس ارشاد گرامی کی روشنی میں حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی اپنی اولین ترجیح بنائیں، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مظلوم افراد دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے باوجود انصاف سے محروم ہیں، سماج دشمن عناصر کے ہاتھوں لٹنے والے تھانوں میں جائیں تو پرچے درج نہیں کئے جاتے اور فرنٹ ڈیسک میں اندراج کے باوجود پرچے درج نہ ہونا صورتحال کی ابتری کو عیاں کرتا ہے، شہریوں کا لٹنا اور ان کی دادرسی نہ ہونا عام ہو چکا ہے، فیصل آباد میں روزانہ درجنوں وارداتیں ہوتی ہیں’ اتھرے ڈاکوئوں کی دیدہ دلیریاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ وہ مزاحمت پر لوگوں کو گولیاں مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے، ڈاکوئوں اور چوروں کے گروہوں نے لوٹ مار کی حد کر دی ہے اور آئے روز ایک سو کے لگ بھگ مقامات پر شہریوں کو قیمتی مال وزر سے محروم کر دیا جاتا ہے، لٹنے والے افراد ریسکیو15 پر کال کرتے ہیں اور متعلقہ تھانہ کے اہلکار موقع پر پہنچ کر انہیں درخواست پر کارروائی کرنے کا کہہ کر چلتے بنتے ہیں، ڈکیتی کے واقعات پیش آنے پر ناکہ بندیاں بھی کی جائیں تو وہ بے سود ثابت ہوتی ہیں اور عوام کو لوٹنے والے ڈاکو پولیس کے ہاتھ نہیں آتے، ڈاکوئوں اور چوروں کے ہاتھوں لٹنے والے شہری تھانے جائیں تو انہیں یہ کہہ کر بیزار کر دیا جاتا ہے کہ فلاں افسر کے پاس چلے جائیں، فلاں افسر کے پاس چلے جائیں… فلاں افسر کے پاس چلے جائیں، بے چارے لوگ مختلف پولیس افسران کے پاس جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اگر وہ ڈکیتی’ چوری یا دیگر کسی واردات کے مقدمات درج کروانے میں کامیاب بھی ہو جائیں تو انہیں بار بار تھانے’ چوکی کے چکر لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور وہ تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کیلئے موثر ترین حکمت عملی کے تحت بھرپور اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ تھانہ کلچر تب ہی تبدیل ہو گا، جب پولیس کا مائنڈ سیٹ تبدیل ہو گا، اس حقیقت سے ہر خاص وعام آگاہ ہے کہ فیصل آباد سمیت دیگر علاقوں میں ڈاکوئوں اور چوروں کے گروہوں نے ”ات” مچا رکھی ہے، عیدالاضحی کے ایام میں بھی شہر بھر میں قتل وغارت اور لوٹ مار کا بازار گرم رہا اور یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ پولیس شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں یکسر ناکام ہو چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے پولیس کلچر تبدیل کرنے کی ٹھان رکھی ہے مگر ابھی تک تھانہ کلچر تبدیل ہوا نہ ہی محکمہ پولیس کے حالات بدلے ہیں، پولیس عوام کو انصاف اور ریلیف فراہم کرنے میں اپنے حقیقی مقصد سے دور ہو چکی ہے، صوبہ پنجاب کے کئی علاقوں میں پولیس گردی کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں جو محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اچھے اور برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اگرچہ پولیس میں محنتی’ دیانتدار اور قابل لوگوں کی کمی نہیں مگر رشوت خور’ نکمے اور نااہل اہلکاران محکمہ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، لہٰذا محکمہ پولیس میں سزا وجزا کے عمل کو مکمل موثر بنانا چاہیے اور وہ کالی بھیڑیں جو اپنی نااہلی’ رشوت خوری کے باعث سائلین کے لیے درد سر بن چکی ہیں، انہیں قرار واقعی سزائیں دی جائیں، سزا وجزا کا نظام اتنا موثر ہونا چاہیے کہ قابل پولیس ملازمین کی مکمل حوصلہ افزائی ہو جبکہ کرپٹ پولیس اہلکاران سزا سے نہ بچ سکیں، تھانہ کلچر تبدیل کرنے کیلئے ایسا ماحول قائم کرنا چاہیے جس میں تھانہ کی سطح پر رشوت اور بدانتظامی کا سلسلہ بند ہو جائے، ہر چھوٹے بڑے کو میرٹ پر ریلیف دیا جائے تو تھانہ کلچر تبدیل ہوا دکھائی دے گا۔ اﷲ کرے محترمہ مریم نواز شریف تھانہ کلچر تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں اور ہمارا معاشرہ ہر لحاظ سے امن و سکون کا گہوارہ بن جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں