پاکستان زندہ باد… ایران زندہ باد

قانون قدرت ہے کہ جو حق اور سچ پر ہوتے ہیں، اﷲ رب العزت کی نصرت ومدد ان کے ساتھ ہوتی ہے، اس لئے بندہ مومن کو بلاخوف وخطر حق وصداقت پر ڈٹے رہنا چاہیے اور اپنے اصولی موقف کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے’ حالیہ پاک بھارت جنگ میں رب کریم نے جس طرح ارض وطن پاکستان کو ہمارے ازلی دشمن بھارت کے مقابلے میں تاریخ ساز فتح سے ہمکنار کیا وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے، بلاشبہ! پاکستانی افواج نے جرأت وبہادری کے ساتھ بھارتی عزائم کو خاک میں ملا دیا اور اسے ایسے زخم لگائے جنہیں وہ ابھی تک چاٹ رہا ہے، یہ پوری دنیا کی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جو اس کی طرف دیکھے گا وہ اپنے نقصان کا خود ذمہ دار ہو گا، پاکستان نے بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیئے مگر اس کے بعد اسرائیل کے ایران پر حملے سے پورے عالم اسلام میں ایک بار پھر گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی، ستم بالائے ستم یہ کہ امریکہ نے اسرائیل کی حمایت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اس نے بھی ایران میں مختلف مقامات پر بمباری کر دی، اس صورتحال میں ایران نے بڑی جرأت مندی سے کام لیا، ایران نے امریکی حملے کے بعد قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغ دیئے، قطری دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھا اور اس نے اپنی فضائی حدود بند کرتے ہوئے غیر ملکیوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کر دیں ”آپریشن فتح کی بشارت” سے متعلق ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا یہ کہنا امت مسلمہ کیلئے اطمینان کا باعث بنا ہے کہ ایران کی طرف سے قطر اور عراق میں صرف امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا اور جن مقامات پر حملے کئے گئے وہ رہائشی علاقوں سے کافی دور ہیں، یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمان حالت جنگ میں بھی رہائشی علاقوں کو نشانہ نہیں بناتے جبکہ ہمارے بدترین دشمن اس کام سے بھی گریز نہیں کرتے، فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے کئے جانیوالے وحشیانہ حملوں میں جس طرح عورتوں’ بچوں’ بوڑھوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنایا گیا وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے، اسرائیلی جارحیت پر پاکستان نے اپنے برادر ہمسایہ ملک ایران کا مکمل ساتھ دیا، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کونسل کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کے بعد خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے ایران کے عوام اور حکومت سے معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور پاکستان کے واضح موقف کا اعادہ کیا گیا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے عالمی قوانین’ اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہیں، یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ امریکی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ تیزی سے بڑے تصادم کی طرف بڑھنے لگا اور پورے خطے کا ہی نہیں بلکہ دنیا کا امن واستحکام دائو پر لگ گیا، اس صورتحال میں پاکستان نے متحرک سفارتی پالیسی اختیار کی اور دنیا پر واضح کیا گیاکہ کسی بھی ریاست کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت کی حمایت نہیں کی جا سکتی، پاکستان نے فعال’ موثر اور جرأت مندانہ اصولی موقف اپنایا اور عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ جنگ روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے، پوری دنیا تسلیم کر چکی ہے کہ پاکستان نے بھارتی حملوں اور ایران نے اسرائیلی جارحیت پر جرأت دکھائی اور فتح وکامرانی ہمارا مقدر بنی’ اب ہر طرف یہ نعرے گونج رہے ہیں کہ ”پاکستان زندہ باد… ایران زندہ باد”۔ دونوں ملکوں نے مسائل کا رونا نہیں رویا، بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستان نے اسے دندان شکن جواب دیا اور اسے جس عبرتناک شکست سے دوچار کیا اسے وہ کبھی بھی بھول نہ پائے گا، اسی طرح ایران نے بھی اسرائیلی حملوں کے بعد جس جرأت وبہادری سے اس کا مقابلہ کیا وہ قابل صد تحسین ہے، ایران نے اسرائیل پر جدید ترین میزائل داغے’ تو اسے لگ پتہ گیا اور دنیا پکار اُٹھی کہ فلسطین میں نہتے لوگوں’ معصوم بچوں اور عورتوں کو حملوں کا نشانہ بنانے والے اسرائیل کو اب پتہ چلا ہے کہ بمباری کیا ہوتی ہے، ایرانی حملوں پر اسرائیل کی چیخیں آسمان تک سنائی دیں، کاش وہ لمحہ بھر سوچتے کہ جب غزہ پر ایک لاکھ ٹن بارود برسایا گیا تب معصوم بچوں’ خواتین اور بزرگوں کا درد کیسا تھا، یہ درد وہی جانتا ہے جس کے کندھے اپنوں کے جنازوں سے جھکے ہوں، ایران نے جس طرح اسرائیل کو حملوں کا نشانہ بنایا اور امریکی اڈوں پر بھی میزائل داغے اس نے ایران اور اسرائیل میں جنگ بندی کی راہ ہموار کر دی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور ایران کے جنگ بندی پر راضی ہونے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا، جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران میں شہری جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا، جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر نے جو باتیں کیں، ان سے بھی ایران کی شاندار فتح عیاں ہوتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران دونوں فریق پرامن اور باعزت رویہ اختیار کریں گے، سب کچھ منصوبے کے مطابق چلے گا اور ایسا ہوتا ہے تو میں اسرائیل اور ایران دونوں کو ان کی ہمت’ استقامت اور دانشمندی پر مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے ایک ایسی جنگ کو ختم کیا جسے برسوں جاری رکھا جا سکتا تھا، ایران اور اسرائیل کا مستقبل لامحدود ہے، دونوں کو بہت خوشحالی ملے گی، ایران اب اپنی کارروائی مکمل کر چکا ہے اور امید ہے کہ اب ایران امن کی طرف لوٹے گا’ اسرائیل کو بھی امن کی جانب بڑھنے کی ترغیب دینگے، بلاشبہ! پوری دنیا نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ بھارت کیخلاف جنگ میں پاکستان نے جرأت وبہادری کا مظاہرہ کر کے تاریخ ساز فتح حاصل کی اور ایران کی جرأت واستقامت نے اسے اسرائیل کیخلاف شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا، میں جنگ کا حامی نہیں، نہ ہی خونریزی کا، مگر بھارت اور اسرائیل نے جارحیت کی تو اسے منہ توڑ جواب دینا ضروری ہو گیا، مسلمان ممالک کے سربراہان کو چاہیے کہ وہ متحد ہو جائیں، یقینی طور پر متحد ہو کر ہی اُمت مسلمہ کو درپیش مسائل حل کرنے کیساتھ ساتھ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کو بھی آزاد کروایا جا سکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں