ایران نے کردکھایا تو دشمن کو حزیمت اٹھا کر ہی قرار آیا ۔ جنگ بندی کا کریڈٹ ٹرمپ لے یا عرب مسلم ممالک کے امریکہ پر دبائو کو دیا جائے ۔ اسرائیل کی حالت زار وجہ ہو یا ایران کی سرفروشی، میری نظر میں کریڈٹ حماس کی اس جانثاری اور اہل غزہ کی استقامت کو بھی جاتا ہے جسے ہمارے کچھ دانشور ہلاکت وحماقت سے تعبیر کر رہے تھے۔ اس کا جو نتیجہ آج نکلا ہے اس پر پہلے دن سے یقین تھا مگر اس کے اشاروں کنایوں تک میں اظہار کو بھی برداشت نہیں کیا گیا تھا میں بھی مانتا ہوں کہ حماس آلہ کار تھی اپنی حماقت یا دشمن کی چالاکی کی نہیں اللہ کی مشیت کی۔ حماس ، حزب اللہ اور ایران کی قیادتیں ختم ہونے پر پریشان ہونے والوں کو خبر ہو کہ انقلاب خون شہیداں سے ہی آتے ہیں ظالم کی رسی جتنی دراز ہو مظلوم کی اتنی ہی سنی جاتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ کو توکل پر نکل کر جانوں کا نقد نذرانہ چاہیے ہوتا ہے ادھار کی دانشوری نہیں جسے حقیقت پسندی کی آڑ میں بگھارا جاتا ہے مگر اصل میں مادیت کی بھول بلیوں میں غوطے کھاتی فراست ہوتی ہے جسے نہ اللہ کے وعدوں کا اعتبار ہے نہ بطور نظریہ حیات اسلام کے غالب آنے کا یقین – جس طرح انسان نے زمین کے مدار سے نکلنا سیکھا تو چاند پر اترا اسی طرح ایمان مضبوط ہوگا تو اندیشوں اور وسوسوں کے سانپ اور سنپولیے جرات رندانہ کی چوٹ سے خود ہی مرجاتے ہیں
اقبال کیا خوب کہہ گئے ہیں
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
چالباز زمانے نے کیا منظر دیکھا ہے کہ مسلم دنیا ہو یا اہل مغرب دنیا بھر کے انسانوں کے دل ایران کے مظلوموں کے ساتھ دھڑک رہے تھے اور مسلم وغیر مسلم سب حکمران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کھڑے تھے بغل میں چھری منہ میں رام رام کی مثال بن کر کہ باہر مذمت سب نے کی مگر اندر تلوے چاٹنے کا عمل جاری رکھا۔ اگر مسلمان ملکوں کے حکمران امریکہ، اسرائیل اور موت کے حوے سے نکلیں، اپنی عیاشیوں کو ترک کریں، یعنی واھن کو چھوڑ کر اپنی شناخت اور اتحاد کی بنیاد پر رزم حق وباطل میں فولاد بنیں تو آج کی ذلت کل کی عزت میں بدل سکتی ہے
فضائے بدر پیداکر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں قطار اندر قطار آج بھی




