ابراہم معاہدہ (Abraham Accords) آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے اور اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے مزید وسعت دینے کے مشن پر ہیں۔ معاہدے کے آغاز میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے، جنہیں امن کا تاریخی لمحہ کہا گیا۔ لیکن حقیقت میں یہ معاہدہ مشرق وسطی کے دیرینہ مسائل کے حل سے زیادہ، ٹرمپ کی شخصیت پر مبنی سفارت کاری کا پرچار بن کر رہ گیا ہے۔ آج ٹرمپ اسی معاہدے کے ذریعے نہ صرف اپنی عالمی حیثیت کو مستحکم کرنے بلکہ نوبیل امن انعام کے حصول کی راہ ہموار کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں اور اس بار ان کا نیا ہدف ہے: پاکستان۔ٹرمپ اس وقت ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور مالی حربہ استعمال کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کو بھی ابراہم معاہدہ (Abraham Accords) کا حصہ بنایا جا سکے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان، جو ایک ایٹمی طاقت اور دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی رکھنے والا ملک ہے، اسرائیل کو تسلیم کرے اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے۔ اس سے نہ صرف ابراہم معاہدہ (Abraham Accords) کو عالمی سطح پر مزید وزن ملے گا بلکہ ٹرمپ کو ایک ایسا کارنامہ حاصل ہو جائے گا جو انہیں نوبیل امن انعام کے نہایت قریب لے آئے گا۔اس وقت پاکستان کو عرب ممالک، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے شدید دبائو کا سامنا ہے۔ یہ ممالک، جو پہلے ہی اسرائیل سے تعلقات قائم کر چکے ہیں، پاکستان پر سیاسی و معاشی دباو ڈال رہے ہیں کہ وہ بھی اس نئے مشرق وسطی کا حصہ بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرمپ نے بھی پاکستان کو کئی پرکشش پیشکشیں کی ہیں جن میں معاشی امداد، قرضوں میں ریلیف، جدید اسلحہ کی فراہمی، اور سب سے بڑھ کر یہ یقین دہانی کہ اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو امریکا اسے باضابطہ طور پر اپنا اتحادی تسلیم کرے گا۔پاکستانی حکومت، جو معاشی بحران، بیرونی قرضوں، اور سفارتی تنہائی سے نبرد آزما ہے، اس وقت اس پیشکش پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اندرونی سطح پر کئی حلقے اس بات کے حق میں ہیں کہ اگر اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے بدلے میں پاکستان کو عالمی سطح پر فائدہ ملتا ہے، تو یہ قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔ مگر سب سے بڑی رکاوٹ ہے پاکستانی قوم، جو فلسطین کے مسئلے کو ایک نظریاتی، دینی اور انسانی مسئلہ سمجھتی ہے۔ عوام کی اکثریت اسرائیل کو ایک غاصب ریاست مانتی ہے، اور کسی بھی قسم کی سفارتی یا تجارتی قربت کو فلسطینیوں سے غداری تصور کرتی ہے۔پاکستانی ریاست کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ قوم کو کیسے قائل کیا جائے؟ حکومت کو معلوم ہے کہ اگر عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اسرائیل سے تعلقات قائم کیے گئے تو اس کے سیاسی، سماجی اور مذہبی نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔ اسی لیے فی الحال معاملہ پسِ پردہ رکھا گیا ہے، بیانات غیر واضح ہیں، اور سفارتی ملاقاتیں خاموشی سے ہو رہی ہیں۔ٹرمپ کی کوشش ہے کہ وہ ابراہم معاہدہ (Abraham Accords)کو اس سطح تک لے جائیں کہ دنیا کے تمام اہم مسلمان ممالک، خاص طور پر پاکستان، اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان سرحدوں کا تعین ہوگا، جس کے بعد دنیا کو ایک ہمیشہ کے امن کا پیغام دیا جائے گا اور ساری دنیا اس کا سہرا ڈونلڈ ٹرمپ کے سر باندھے گی، جو خود کو امن کا نجات دہندہ اور نوبیل انعام کا مستحق ثابت کرنا چاہتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینی عوام، جنہیں اس پورے عمل میں شامل ہی نہیں کیا گیا، اس نام نہاد امن کو تسلیم کریں گے؟ کیا صرف سرحدی نقشے بنا کر ایک تاریخی جدوجہد کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا عالمی برادری اصولوں، انصاف اور مظلوم کی آواز کو نظرانداز کرکے صرف طاقتور کے بیانیے کو مان لے گی؟ابراہم معاہدہ (Abraham Accords) اب صرف سفارتی عمل نہیں رہا، بلکہ یہ عالمی طاقتوں کی مفاداتی سیاست، مذہبی جذبات، اور نظریاتی کشمکش کا میدان بن چکا ہے۔ پاکستان کا اس میں شامل ہونا نہ صرف اس کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہوگا، بلکہ اس کے نظریاتی وجود، عوامی اعتماد، اور مشرق وسطی میں اس کے کردار کو بھی مکمل طور پر بدل دیگا۔اور یہ سب کچھ صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کہ ایک امریکی صدر، جس نے اپنے گزشتہ دورِ اقتدار میں دنیا کو مزید تقسیم کیا، آج خود کو امن کا ہیرو کہلا سکے اور نوبیل انعام حاصل کر سکے، چاہے اس کے پیچھے فلسطینیوں کی قربانیاں، قوموں کی خودمختاری، اور عوام کی رائے سب روند دی جائیں۔




